The Empathy Economy
ذرا غور کریں۔ جو ماڈل اسکول کا مضمون لکھ سکتا ہے، وہی قانونی معاہدہ، مارکیٹنگ بریف اور پریس ریلیز بھی بنا سکتا ہے۔ کراچی کا جونیئر ڈویلپر جو کوڈ ایک ہفتے میں لکھتا تھا، اب اچھے پرامپٹ کے ساتھ ایک دوپہر میں لکھ لیتا ہے۔ …
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
ذرا غور کریں۔ جو ماڈل اسکول کا مضمون لکھ سکتا ہے، وہی قانونی معاہدہ، مارکیٹنگ بریف اور پریس ریلیز بھی بنا سکتا ہے۔ کراچی کا جونیئر ڈویلپر جو کوڈ ایک ہفتے میں لکھتا تھا، اب اچھے پرامپٹ کے ساتھ ایک دوپہر میں لکھ لیتا ہے۔ ہر پاکستانی خاندان کے واٹس ایپ گروپ میں ایک ہی بات ہے: کیا میرے بچے کو 2030 میں نوکری ملے گی۔ ایماندار جواب یہ ہے کہ بچ جانے والی نوکریاں وہ ہیں جہاں ایک حقیقی انسان کو دوسرے حقیقی انسان کا خیال رکھنا پڑے۔ اسی کو ہم ہمدردی کی معیشت کہہ رہے ہیں۔
دو، شوکت خانم یا انڈس ہسپتال کی نرس۔ AI پہلے ہی زیادہ تر انسانی ریڈیولوجسٹ سے بہتر اسکین پڑھ لیتی ہے۔ AI رات تین بجے ساٹھ سالہ خاتون کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتی جس کے بیٹے کو ابھی کینسر کی تشخیص ہوئی ہو، اس کا ہاتھ پکڑ کر بیچ جملے میں انگریزی سے پنجابی پر آ جائے کیونکہ مریضہ یہی سمجھتی ہے، اور بتائے کہ ٹیم اچھی ہے، آپ اکیلی نہیں۔ ہسپتال یہ کام کرنے کے لیے ایک حقیقی انسان کو اجرت دیتا ہے، اور دس سال بعد کم نہیں، زیادہ دے گا۔
تین، اندرونِ سندھ کی اسکول ٹیچر۔ لیسن پلان خود بخود بن سکتا ہے۔ ورک شیٹ خود بخود مارک ہو سکتی ہے۔ AI یہ نہیں دیکھ سکتی کہ تیسری قطار میں بیٹھی آٹھ سالہ بچی نے کل سے کچھ نہیں کھایا، چپکے سے پاس جا کر اپنا آدھا کھانا اس کے ساتھ بانٹے، اور شام کو ماں کو فون کر کے نرم سندھی میں کہے، بہن، گھر میں سب ٹھیک تو ہے۔ یہ ٹیچر مواد پہنچانے کی مشین نہیں۔ وہ بچوں کی زندگیوں کی گواہ ہے۔ ریاست، والدین، اور عطیہ دینے والے یہ کردار کم نہیں، زیادہ معاوضہ دے کر خریدیں گے، کیونکہ اس کا کوئی بدل نہیں۔
اختتام سے پہلے دو تنبیہات۔ ایک، کیریئر کی حکمت عملی کے طور پر نقلی ہمدردی نہ کریں۔ لوگ تیس سیکنڈ میں نقلی خیال پہچان لیتے ہیں۔ پاکستانی خالائیں دو شادیوں میں سچائی پکڑ لیتی ہیں۔ معیشت اصلی خیال کا صلہ دیتی ہے، اور اصلی خیال سالوں کی مشق سے آتا ہے، جیسی مشق آپ سبق ایک سے چھ تک کر رہے ہیں۔ دو، ہمدردی کی معیشت نرم نہیں۔ رات تین بجے ہاتھ تھامنے والی نرس عمارت کا سب سے سخت کام کر رہی ہے۔ اس ہنر کو سنجیدہ کاری گری سمجھیں، نرم مہارت نہیں، اور آپ ان چند لوگوں میں شامل ہوں گے جو واقعی اس میں پختہ ہوں گے۔
یاد رکھنے والی ایک لائن۔ 2030 میں جیتنے والے طلبہ وہ نہیں ہوں گے جو سب سے زیادہ یاد کر لیں یا سب سے تیز کوڈ لکھیں۔ وہ ہوں گے جو کسی مشکل لمحے میں ایک انسان کے ساتھ بیٹھ کر اس کے کام آ سکیں۔ پاکستان میں یہ ہمیشہ قیمتی رہا ہے۔ بازار کو اب جا کر سمجھ آئی ہے۔
تخمینی وقت: 14 منٹ