Skip to content
سبق 2

When Someone Is Sad

ایک منظر سوچیں۔ آپ اسکول میں ہیں۔ ٹفن کی گھنٹی بج چکی ہے۔ آپ کی ہم جماعت حرا اپنی ڈیسک پر بیٹھی ہے اور اُس کے کندھے ہل رہے ہیں۔ وہ رو رہی ہے۔ باقی بچے باہر بھاگ رہے ہیں۔ آپ کیا کریں گے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

ایک منظر سوچیں۔ آپ اسکول میں ہیں۔ ٹفن کی گھنٹی بج چکی ہے۔ آپ کی ہم جماعت حرا اپنی ڈیسک پر بیٹھی ہے اور اُس کے کندھے ہل رہے ہیں۔ وہ رو رہی ہے۔ باقی بچے باہر بھاگ رہے ہیں۔ آپ کیا کریں گے۔

ایک الگ ترتیب ہے، اور یہ کام کرتی ہے۔ پہلے، آپ اس کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ اس کے اوپر کھڑے نہ ہوں۔ بیٹھنے سے آپ ایک ہی برابر ہو جاتے ہیں۔ دوسرا، چند سیکنڈ تک کچھ نہ کہیں۔ بس ساتھ ہوں۔ تیسرا، ایک چھوٹا جملہ کہیں۔ یہ آزمائیں: حرا، مجھے نظر آ رہا ہے کہ تم پریشان ہو۔ میں یہاں ہوں۔ بس اتنا۔ پھر انتظار کریں۔

وہ بات کرے گی۔ یا نہیں کرے گی۔ دونوں ٹھیک ہیں۔ اگر بات کرے تو آپ کا واحد کام سننا ہے۔ مشورہ نہ دیں۔ اپنی کہانی نہ سنائیں کہ آپ بھی کبھی اداس تھے۔ بیس سوال نہ پوچھیں۔ بس سنیں، اور کبھی کبھی اس کے آخری چند الفاظ آہستہ سے دہرا دیں۔ اگر وہ کہے، میری دادی ٹھیک نہیں، تو آپ نرمی سے کہیں، تمہاری دادی ٹھیک نہیں۔ اتنا کافی ہے۔ یہ اسے بتاتا ہے کہ آپ نے واقعی سنا۔

پاکستانی اسکول کی ایک آخری بات۔ ہمیں کام آنا سکھایا جاتا ہے۔ کمرہ صاف کرو، کام مکمل کرو، نمبر لاؤ۔ روتی ہوئی دوست کے ساتھ خاموشی سے بیٹھنا ایسے لگ سکتا ہے جیسے کچھ نہیں کر رہے۔ آپ کچھ نہیں نہیں کر رہے۔ آپ دن کا سب سے اہم کام کر رہے ہیں۔ کمرہ انتظار کر سکتا ہے۔ نمبر انتظار کر سکتے ہیں۔ آنسوؤں میں ڈوبا دوست انتظار نہیں کر سکتا۔

تخمینی وقت: 9 منٹ