The Judiciary
جب پاکستان میں کچھ غلط ہوتا ہے، معاہدہ ٹوٹے، کوئی رشتہ دار حراست میں جائے، یا زمین پر قبضہ ہو، آخر میں آپ عدالت پہنچتے ہیں۔ زیادہ تر پاکستانی عدالتوں سے بچتے ہیں کیونکہ نظام اجنبی محسوس ہوتا ہے۔ یہ اجنبی نہیں۔ یہ آپ کا …
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
جب پاکستان میں کچھ غلط ہوتا ہے، معاہدہ ٹوٹے، کوئی رشتہ دار حراست میں جائے، یا زمین پر قبضہ ہو، آخر میں آپ عدالت پہنچتے ہیں۔ زیادہ تر پاکستانی عدالتوں سے بچتے ہیں کیونکہ نظام اجنبی محسوس ہوتا ہے۔ یہ اجنبی نہیں۔ یہ آپ کا ہے۔ جج اُسی ٹیکس سے تنخواہ پاتے ہیں جو آپ موبائل ری چارج پر دیتے ہیں۔ عدالتوں کی ساخت سمجھنا پہلا قدم ہے کہ نظام آپ کے خلاف نہیں، آپ کے لیے کام کرے۔
پاکستان کا عدالتی نظام ایک تین منزلہ ہرم ہے۔ سب سے اوپر اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان ہے، چیف جسٹس اور تقریباً سولہ دیگر جج۔ یہ اپیل کی آخری عدالت ہے اور آئین کی تشریح کرتی ہے۔ اس کے نیچے پانچ ہائی کورٹس ہیں: لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اور بلوچستان ہائی کورٹ۔ ہر ہائی کورٹ ایک صوبے یا علاقے کا احاطہ کرتی ہے۔ ہائی کورٹس کے نیچے ہر بڑے شہر میں ضلعی اور سیشن عدالتیں ہیں، پھر ہر تحصیل میں سول جج اور مجسٹریٹ۔ عام شہریوں کے زیادہ تر مقدمات نچلی منزل پر شروع ہوتے ہیں اور وہیں رہتے ہیں۔
اب وہ طریقہ جو زیادہ تر لوگوں کو متاثر کرتا ہے: FIR، یعنی First Information Report۔ اگر آپ کے یا گھر والوں کے ساتھ کوئی جرم ہو، تو قریبی تھانے جائیں جس کے دائرہ کار میں جرم ہوا، اور ڈیوٹی افسر سے FIR درج کرنے کا کہیں۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت، اگر آپ کسی قابلِ دست اندازی جرم کا بیان دیں تو پولیس کو FIR درج کرنا لازم ہے۔ کبھی کبھی وہ انکار کریں گے۔ کہیں گے، کل آؤ، یا، SHO موجود نہیں۔ دونوں ٹالنے کے حربے ہیں۔ آپ کے پاس راستے ہیں۔
اگر پولیس FIR درج کرنے سے انکار کرے، تو تین قدم۔ ایک: ضلعی SP کو ہاتھ سے تحریری شکایت دیں، دو کاپیاں، ایک پر وصولی کی مہر لگوائیں۔ دو: اگر SP بھی انکار کرے، تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22A کے تحت Justice of Peace کے سامنے درخواست دیں، جو عموماً ضلع کا سینئر سول جج ہوتا ہے۔ Justice of Peace پولیس کو FIR درج کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ تین: اگر یہ بھی ناکام ہو، تو آئین کی شق 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ درخواست۔ ہر قدم پر عدالتی فیس دو ہزار روپے سے کم ہے۔ یہ سارا سلسلہ شہری کا حق ہے؛ پولیس کو معلوم ہوتا ہے، اور زیادہ تر افسر دوسرے قدم پر جھک جاتے ہیں۔
آخر میں اُس وکیل کے بارے میں جسے آپ بالآخر رکھیں گے۔ پاکستان بار کونسل اور چاروں صوبائی بار کونسلیں عوامی فہرستیں رکھتی ہیں۔ فیس میں بہت فرق ہے: لاہور میں سیشن کورٹ کا وکیل کم سے کم دس سے بیس ہزار روپے فی مقدمہ پر مل جاتا ہے، اور اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا وکیل دس لاکھ سے اوپر بھی لیتا ہے۔ زیادہ تر خاندانی جھگڑوں، سول دعووں، اور چھوٹے فوجداری معاملات کے لیے ضلع سطح کا اہل وکیل کافی ہے۔ یونین کونسل سے پوچھیں، محلے کے بزرگوں سے پوچھیں، کسی قابلِ اعتماد شخص کے خاندانی وکیل سے پوچھیں۔ سب سے مہنگا وکیل شاذ ہی صحیح وکیل ہوتا ہے۔
تخمینی وقت: 13 منٹ