Civil Society
آپ اور ریاست کے درمیان، اُس جگہ پر جہاں نہ خاندان پہنچتا ہے نہ حکومت، سول سوسائٹی بیٹھی ہے۔ این جی اوز، فاؤنڈیشنز، پیشہ ور انجمنیں، بار کونسلیں، شہری صحافت، مسجد کی فلاحی کمیٹیاں، وہ ایدھی ایمبولینس جس نے آپ کے چچا کو ہ…
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
آپ اور ریاست کے درمیان، اُس جگہ پر جہاں نہ خاندان پہنچتا ہے نہ حکومت، سول سوسائٹی بیٹھی ہے۔ این جی اوز، فاؤنڈیشنز، پیشہ ور انجمنیں، بار کونسلیں، شہری صحافت، مسجد کی فلاحی کمیٹیاں، وہ ایدھی ایمبولینس جس نے آپ کے چچا کو ہسپتال پہنچایا۔ پاکستان جنوبی ایشیا کے سب سے فعال سول سوسائٹی شعبوں میں سے ایک رکھتا ہے، شور مچانے والے سیاست دانوں کے اعتراف سے کہیں زیادہ۔ آج ہم چند ادارے کا نام لیتے ہیں جو دہائیوں سے اصل کام کر رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، HRCP، 1987 میں عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمان، اور دیگر نے قائم کی۔ خود مختار، غیر منافع بخش، ملک میں سب سے معتبر انسانی حقوق کا نگران ادارہ۔ HRCP ہر سال State of Human Rights رپورٹ شائع کرتی ہے جو 400 صفحات کی ہوتی ہے اور لاپتا افراد، اقلیتوں پر حملے، غیرت کے نام پر قتل، اور مزدور حقوق کی خلاف ورزیوں کے ہر بڑے کیس کو دستاویز بناتی ہے۔ ایوانِ اقبال روڈ لاہور پر اُن کا ہیڈ آفس بغیر ملاقات شکایت قبول کرتا ہے۔ وہ ہر کیس حل نہیں کریں گے، مگر ریکارڈ پر لائیں گے، اور ریکارڈ پر آنا انصاف کا پہلا قدم ہے۔
عورت فاؤنڈیشن، 1986 میں قائم۔ خواتین کی بااختیاری، قانونی مدد، اور معلومات پر کام کرتی ہے۔ یہی Punjab Protection of Women Against Violence Act 2016 کے بنیادی مسودہ ساز تھے، وہ قانون جس نے بالآخر پنجاب میں گھریلو تشدد کو خاص فوجداری جرم قرار دیا اور عدالتی تحفظ کے احکامات لائے۔ عورت فاؤنڈیشن 30 اضلاع میں Citizens' Action Committees بھی چلاتی ہے؛ اگر آپ کے وسیع خاندان میں کوئی خاتون تشدد کا شکار ہو، تو مقامی عورت فاؤنڈیشن افسر اکثر سب سے خاموش اور پیشہ ور پہلا رابطہ ہوتا ہے۔
ادارہِ تعلیم و آگہی، ITA، 2000 میں بائلہ رضا جمیل نے قائم کی۔ شاید پاکستان کی سب سے زیادہ ڈیٹا پر مبنی تعلیمی این جی او۔ ہر سال یہ ASER Pakistan شائع کرتی ہے، شہریوں کی قیادت میں سیکھنے کا جائزہ، جو 153 اضلاع میں تقریباً دو لاکھ بچوں کا سروے کر کے بتاتا ہے کہ وہ بچے کیا پڑھ یا حساب کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔ ASER کے نتائج دو ٹوک ہیں: 2023 میں، دیہی پاکستان میں جماعت پانچ کے صرف نصف بچے جماعت دو سطح کی اردو کہانی پڑھ سکے۔ جب بھی کوئی سیاست دان تعلیمی انقلاب کا وعدہ کرے، تازہ ترین ASER دیکھیں۔ وعدے پریس کانفرنس تک رہتے ہیں۔ ASER سالوں چلتی ہے۔
پاکستان میں سول سوسائٹی دباؤ کے تحت کام کرتی ہے۔ غیر ملکی فنڈ سے چلنے والی NGOs کو 2015 کی INGO پالیسی نے سکیڑ دیا اور کئی بند ہوئیں۔ صرف پاکستانی NGOs کو انکم ٹیکس آرڈیننس سیکشن 2(36) رجسٹریشن کا سامنا ہے۔ کچھ خالص فلاحی اداروں کو خاموش کرنے کے لیے غیر ملکی ایجنٹ کہا گیا۔ یہ دباؤ حقیقی ہے، اور پاکستانی سول سوسائٹی کو نازک بناتا ہے۔ اِسی لیے آپ کی شرکت اہم ہے۔ تحصیل میں بیس فعال شہری، چاہے غیر معاوضہ، مقامی این جی او کو کسی بڑے عطیہ دہندہ سے دگنا مؤثر بنا دیتے ہیں۔ ریاست ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی۔ سول سوسائٹی پہنچتی ہے۔ سول سوسائٹی بالآخر ہم باقی سب ہیں۔
تخمینی وقت: 13 منٹ