Presenting Without Shaking
اگر آپ نے کبھی سکول میں پریزنٹیشن دی ہے، تو احساس جانتے ہیں۔ گھٹنوں میں پانی۔ آواز ایک سُر اونچی۔ ہاتھ میں کاغذ مری کی ہوا میں پتے کی طرح کانپنے لگتا ہے۔ آپ ہر لفظ جلدی پڑھتے ہیں تاکہ سیٹ پر واپس جائیں۔ سامعین کچھ نہیں …
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اگر آپ نے کبھی سکول میں پریزنٹیشن دی ہے، تو احساس جانتے ہیں۔ گھٹنوں میں پانی۔ آواز ایک سُر اونچی۔ ہاتھ میں کاغذ مری کی ہوا میں پتے کی طرح کانپنے لگتا ہے۔ آپ ہر لفظ جلدی پڑھتے ہیں تاکہ سیٹ پر واپس جائیں۔ سامعین کچھ نہیں سنتے، آپ کو کچھ یاد نہیں رہتا، اور اگلی پریزنٹیشن مزید بدتر لگتی ہے۔ یہ شخصیت کا نقص نہیں۔ یہ ایک غیر تربیتی مہارت ہے۔ سامعین کے سامنے اسٹیج کا خوف وہی جسمانی ردِعمل ہے جو کرکٹر کو ٹیسٹ اننگز کے آغاز پر ہوتا ہے۔ پاکستان کے کوچ بہت عرصے سے علاج جانتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے بیٹنگ کوچ کو ایک نوجوان کھلاڑی کے ساتھ دیکھیں۔ پہلا کام وہ کھلاڑی کا اسٹینس نہیں بدلتا۔ وہ سانس بدلتا ہے۔ گیند باز دوڑ شروع کرنے سے پہلے تین آہستہ سانسیں۔ جسم بیک وقت ڈرا اور آہستہ سانس نہیں لے سکتا؛ دونوں میں سے ایک کو ہار ماننی ہے۔ یہی ترکیب اسٹیج پر کام کرتی ہے۔ بولنے کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے، ناک سے تین آہستہ سانسیں لیں، اندر سے باہر زیادہ لمبی۔ یہ کرسی پر کریں، آگے جاتے ہوئے نہیں۔ پوڈیم پہنچتے پہنچتے دل کی دھڑکن نیچے آنا شروع ہو چکی ہوگی۔
ہاتھوں کا کیا کرنا ہے۔ دو سب سے کمزور اختیارات، جیب میں ڈالنا، جس سے جھکا ہوا لگتے ہیں، اور سینے پر باندھنا، جس سے دفاعی۔ دو اچھے اختیارات، اشاروں کے درمیان ہاتھ کو پہلو سے لگائے رکھنا، یا ایک چیز پکڑنا، جیسے ریموٹ یا مارکر۔ جب الفاظ زور دار ہوں ہاتھ حرکت کریں، اور پرسکون الفاظ پر تھم جائیں۔ غور کریں عمران خان جلسے میں کیسے بولتے ہیں۔ ہاتھ آدھی کہانی سناتے ہیں۔ وہ پھڑپھڑاتے نہیں؛ وہ رموزِ اوقاف لگاتے ہیں۔ مشق سے آپ کے ہاتھ بھی یہی کر سکتے ہیں۔
پاکستانی سامعین میں نظر ملانا اپنا الگ مسئلہ ہے۔ اگر سامعین میں بزرگ مرد ہوں، تو ایک کی آنکھ میں سیدھا گھورنا بے ادبی محسوس ہو سکتی ہے۔ اگر قدامت پسند ماحول میں ہم عمر خواتین ہوں، تو نظر ملانا غیر مناسب لگ سکتا ہے۔ ترکیب یہ ہے کہ آنکھوں کے بجائے پیشانیوں پر دیکھیں، کمرے کے تین چار مقامات پر۔ سامنے بائیں، سامنے دائیں، درمیان، پیچھے۔ ہر چند جملوں بعد بدلیں۔ سامعین کو لگتا ہے دیکھے گئے، آپ کو پھنسے ہوئے نہیں لگتا، اور تقریر میں قدرتی تال آ جاتی ہے۔
آخری بات۔ اسٹیج کا خوف کبھی پوری طرح نہیں جاتا؛ وہ مہارت کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔ پہلا PSL میچ جس میں کھلاڑی اترتا ہے، شور اس کے خیالات سے بلند ہوتا ہے۔ سویں میچ تک شور اتنا ہی ہے، مگر خیالات بڑے ہو چکے ہیں۔ بولنے میں بھی یہی سچ ہے۔ پہلی تین تقریریں بری لگیں گی۔ دسویں قابلِ برداشت۔ تیسویں سے لطف آنا شروع ہو جائے گا۔ اس سہ ماہی میں ایک تقریر کا اندراج کرائیں، چاہے دوستوں کے سامنے پانچ منٹ کی۔ گھڑی تب تک شروع نہیں ہوتی جب تک آپ کھڑے نہ ہوں۔
تخمینی وقت: 13 منٹ