Electrical Safety
پاکستان میں ہر سال تقریباً پندرہ سو افراد گھریلو بجلی کے حادثوں میں جان سے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر اموات روکی جا سکتی ہیں، اور وجوہات گنی چنی ہیں: کسی نے مین بجلی بند کیے بغیر سوئچ کھولا، کسی نے ایک ایکسٹینشن میں بہت …
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
پاکستان میں ہر سال تقریباً پندرہ سو افراد گھریلو بجلی کے حادثوں میں جان سے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر اموات روکی جا سکتی ہیں، اور وجوہات گنی چنی ہیں: کسی نے مین بجلی بند کیے بغیر سوئچ کھولا، کسی نے ایک ایکسٹینشن میں بہت سے آلات لگا دیے، کسی نے گیلے ہاتھ سے لائیو پوائنٹ کو چھوا، کسی نے ڈھیلے پلگ پر ایک اور دن بھروسہ کر لیا۔ یہ سبق اِن اعداد و شمار کا حصہ بننے یا نہ بننے کا فرق ہے۔
UPS اور جنریٹر کا میل لوگوں کو دھوکا دیتا ہے کہ مین بجلی بند ہے۔ جب K-Electric دوپہر ایک بجے لوڈ شیڈنگ کرتی ہے تو UPS کے سبب گھر روشن رہتا ہے۔ اب دیوار کی کوئی تار چھوئیں، تو بھی جھٹکا لگے گا کیونکہ UPS انہی تاروں کو بجلی دے رہا ہے۔ پیٹرول یا ڈیزل جنریٹر ٹرانسفر سوئچ پر بھی یہی صورت۔ صرف باہر کا مین بریکر بند کرنا کافی نہیں؛ UPS کو اس کے اپنے پینل سے اور جنریٹر کو اس کی اپنی اگنیشن سے بھی بند کریں۔ تین سوئچ، تین تصدیقیں، ہر بار۔
ڈھیلا پلگ یعنی آگ۔ وجہ سادہ ہے۔ جب پلگ ساکٹ میں ڈھیلا فِٹ ہو، تو رابطے کی جگہ بہت چھوٹی ہوتی ہے، مزاحمت بڑھ جاتی ہے، اور کرنٹ اُس مقام کو اِتنا گرم کرتا ہے کہ ارد گرد کی پلاسٹک پگھل کر آگ پکڑ لیتی ہے۔ آگ سے ہفتوں پہلے ساکٹ پر بھورا داغ نظر آئے گا۔ کمرے میں ہلکی گرم میٹھی بُو محسوس ہوگی۔ نکالنے پر پلگ ہاتھ کو گرم لگے گا۔ ان میں سے کوئی بھی نشانی ملے، آج اس ساکٹ کا استعمال بند کریں، اور کل تک کسی تجربہ کار الیکٹریشن (پلاس پکڑے بِلدار نہیں) کو بُلا لیں۔
گھریلو آگ کا سب سے بڑا سرچشمہ ایکسٹینشن کارڈ ہے۔ حساب صاف ہے۔ عام پاکستانی ایکسٹینشن چھ ایمپیئر کے لیے بنی ہوتی ہے؛ یعنی ایک پنکھا، دو فون چارجر، ایک لیپ ٹاپ تو چل سکتے ہیں۔ مگر جیسے ہی آپ 1500 واٹ کا واٹر ہیٹر راڈ، استری، یا الیکٹرک کیتلی اس میں لگاتے ہیں، چھ ایمپیئر کی تار میں بارہ سے پندرہ ایمپیئر گزر رہا ہوتا ہے۔ تار گرم ہوتی ہے۔ پلاسٹک نرم پڑتی ہے۔ کسی رات نیند میں وہ آگ پکڑتی ہے۔ ہیٹر، استری، کیتلی، واٹر ہیٹر، اور AC ہمیشہ سیدھا دیوار کے ساکٹ میں، ایکسٹینشن میں کبھی نہیں۔
اگر کسی کو کرنٹ لگ رہا ہو، اسے کھینچ کر نہ پکڑیں۔ ان کے پٹھے تار پر بند ہو چکے ہیں اور آپ کے چھونے سے آپ بھی اس میں جُڑ جائیں گے۔ ہر بار سب سے پہلے مین بریکر بند کریں۔ اگر بریکر تک پہنچ نہیں سکتے تو کسی خشک اور غیر موصل چیز سے انہیں ذریعے سے الگ کریں: لکڑی کی کرسی، پلاسٹک کی جھاڑو کا ڈنڈا، موٹا لپٹا اخبار۔ دھکیلیں، کھینچیں مت۔ الگ ہونے پر انہیں پیٹھ کے بل لٹائیں، سانس دیکھیں، 1122 (ریسکیو) یا 115 (ایدھی) کو فون کریں۔ اگر سانس نہ ہو اور CPR آتا ہو، شروع کریں۔ نہ آتا ہو تو سبق چار میں فرسٹ ایڈ کٹ، اور سبق آٹھ میں CPR کی بنیاد پڑھیں۔
تخمینی وقت: 14 منٹ