Running An Errand Alone
ہر پاکستانی گھر میں ایک لمحہ آتا ہے جب والدین کہتے ہیں، بیٹا، تم یہ بل ادا کر آؤ، اور نوجوان کو احساس ہوتا ہے کہ اُس نے اکیلے کبھی نہیں کیا۔ بینک، کریانہ سٹور، کے الیکٹرک کے کاؤنٹر، ایس این جی پی ایل کے دفاتر، کوریئر کے…
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
ہر پاکستانی گھر میں ایک لمحہ آتا ہے جب والدین کہتے ہیں، بیٹا، تم یہ بل ادا کر آؤ، اور نوجوان کو احساس ہوتا ہے کہ اُس نے اکیلے کبھی نہیں کیا۔ بینک، کریانہ سٹور، کے الیکٹرک کے کاؤنٹر، ایس این جی پی ایل کے دفاتر، کوریئر کے دفاتر، نادرا۔ ہر ایک کی اپنی قطار، اپنا کاغذی کام، اپنی غیر تحریری تہذیب ہے۔ پہلی بار اکیلے جانا چھوٹا مگر اہم ہے۔ یہ وہ دن ہے جب آپ گھر کا خدمت لینے والا نہیں رہتے اور خدمت کرنے والے بن جاتے ہیں۔ یہ سبق آپ کو چار عام اکیلے کاموں سے گزارتا ہے۔
پہلا کام، کے الیکٹرک یا لیسکو کا بل ادا کرنا۔ بل گھر میں چھپا ہوا کاغذ یا واٹس ایپ پر پی ڈی ایف کے طور پر آتا ہے۔ نیچے دائیں طرف بڑے حروف میں آخری تاریخ اور رقم دیکھیں۔ آج ادائیگی کا آسان ترین طریقہ بینک کاؤنٹر نہیں ہے۔ یہ آپ کا بینک ایپ، جاز کیش، ایزی پیسہ، یا 1 لنک ہے۔ صارف نمبر داخل کریں، رقم تصدیق کریں، ادائیگی کریں۔ تصدیق کا اسکرین شاٹ لیں۔ جس نے ادائیگی کا کہا تھا اُسے دکھائیں۔ اگر بینک کاؤنٹر جائیں تو بل، نقد، اور صارف نمبر کے ساتھ سلپ بھر کر مہر شدہ آدھا حصہ سنبھال کر رکھیں۔ مہر شدہ آدھے گم ہو جائیں تو چھ ماہ بعد بل آفس کے غیر ادائیگی کے دعوے پر جھگڑا ہوتا ہے۔
دوسرا کام، کریانہ والا۔ آپ کو آٹا، گھی، دو پاؤ ٹماٹر، دھنیا، ایک ٹولی املی لینے بھیجا گیا۔ تین اصول آپ کو ایسا دکھاتے ہیں جیسے آپ یہ پہلے کر چکے ہوں۔ فہرست لے کر جائیں، یادداشت پر بھروسہ نہ کریں۔ پہلے قیمت پوچھیں، خاص طور پر ٹماٹر اور پیاز کی، جن کا بھاؤ روز بدلتا ہے۔ پیسے دکاندار کے سامنے گنیں، گھر جاتے ہوئے جیب میں نہیں۔ پہلی بار جب تینوں کریں گے، تو کریانہ والا آپ کو ذرا الگ سے پیش آئے گا، اُس چھوٹے احترام سے جو رقص جاننے والے کو ملتا ہے۔
تیسرا کام، جمع یا منتقلی کے لیے بینک۔ شناختی کارڈ، نقد یا چیک ساتھ رکھیں، اور وہ اکاؤنٹ نمبر جانیں جس میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ بینکوں میں اب ٹوکن مشین ہوتی ہے، تقریباً سب میں۔ صحیح بٹن دبائیں، کیش ڈپازٹ یا فنڈ ٹرانسفر، ٹوکن لیں، سٹیل کی بینچ پر بیٹھیں۔ کاؤنٹر آپ کا نمبر بلاتا ہے۔ پُرسکون رہیں اگر آپ کا نمبر چھوڑ دیا جائے کیونکہ کوئی بڑا اندر آ گیا۔ یہ عام ہے۔ شائستگی سے فلور مینیجر سے پوچھیں کہ آپ کا ٹوکن کیوں چھوڑا گیا۔ زیادہ تر وہ ٹھیک کر دے گا۔ ڈپازٹ سلپ کا مہر شدہ آدھا حصہ ہمیشہ سنبھالیں۔
چوتھا کام، کوریئر آفس۔ آپ ملتان میں کزن کو پارسل بھیج رہے ہیں یا دراز کو واپسی۔ سامان پیک کر کے لے جائیں، وصول کنندہ کا پورا نام، پتہ، اور فون نمبر صاف لکھ کر ڈبے میں سلپ پر رکھیں۔ کاؤنٹر پر قیمت پوچھیں، ٹریکنگ نمبر مانگیں، کسٹمر کاپی لیں۔ سب سے عام غلطی کسٹمر کاپی نہ لینا ہے۔ اِس کے بغیر، اگر پارسل گم ہو جائے تو آپ ثابت نہیں کر سکتے کہ بھیجا گیا۔ ٹریکنگ نمبر فوراً موبائل میں محفوظ کریں۔ بیک اپ کے طور پر رسید کی تصویر لیں۔
آج کی عادت۔ اگلا گھریلو کام جو آئے، پوچھیں کہ کیا آپ اکیلے کر سکتے ہیں۔ آہستہ سے گزریں۔ دستاویز، نقد اور تھوڑا اضافی، چارج شدہ موبائل ساتھ لے جائیں۔ کام کریں۔ گھر آ کر بھیجنے والے کو ٹھیک ٹھیک بتائیں کیا ہوا، کتنا لگا، کون سی رسیدیں ہیں۔ ہفتے میں ایک بار دو ماہ کریں اور آپ وہ شخص بن جائیں گے جس پر گھر چپ چاپ اگلی بڑی چیز کا اعتماد کرتا ہے، بینک اکاؤنٹ کھولنا، پاسپورٹ لینا، نادرا جانا۔ بڑا انسان اِسی طرح بنتا ہے، ایک مہر شدہ آدھی پرچی کے ذریعے۔
تخمینی وقت: 14 منٹ