Skip to content
سبق 4

The First Aid Kit

فرسٹ ایڈ کٹ ایک ٹن یا پلاسٹک کا ڈبہ ہے جو گھر میں کسی ایک معلوم جگہ پر رہتا ہے، جسے گھر کا ہر فرد اندھیرے میں بھی ڈھونڈ سکے، اور جس میں چوٹ لگنے کے پہلے دس منٹ کی ضروری چیزیں ہوں؛ ڈاکٹر یا ریسکیو کے پہنچنے سے پہلے۔ زیاد…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

فرسٹ ایڈ کٹ ایک ٹن یا پلاسٹک کا ڈبہ ہے جو گھر میں کسی ایک معلوم جگہ پر رہتا ہے، جسے گھر کا ہر فرد اندھیرے میں بھی ڈھونڈ سکے، اور جس میں چوٹ لگنے کے پہلے دس منٹ کی ضروری چیزیں ہوں؛ ڈاکٹر یا ریسکیو کے پہنچنے سے پہلے۔ زیادہ تر پاکستانی گھروں میں ایسا ڈبہ نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ کہ بچہ زخمی ہو اور لوگ ڈیٹول ڈھونڈتے بھاگ رہے ہوں۔ یہ سبق اس لیے ہے کہ آپ کا گھر ایسا گھر نہ ہو۔

بارہ چیزیں بنیادی پاکستانی گھریلو فرسٹ ایڈ کٹ میں جاتی ہیں۔ کسی بھی فارمیسی (شاہین، ڈی واٹسن، سرواید، یا محلے کی میڈیکل سٹور) سے پوری فہرست دو ہزار سے کم میں آ جاتی ہے۔ ایک: روئی کا ایک رول۔ دو: پایوڈین (پووڈون آیوڈین) کی بوتل زخم صاف کرنے کے لیے۔ تین: آنکھ دھونے کے لیے سیلائن واٹر کی چھوٹی بوتل۔ چار: جلن کے لیے برنول یا سلور سلفاڈیازین کریم کی ٹیوب۔ پانچ: پیراسٹامول (پنا ڈول یا کیلپول) کی پٹی۔ چھ: الرجی کے لیے اینٹی ہسٹامین (ایویل) کی پٹی۔ سات: پانی کی کمی کے لیے ORS کے ساشے۔ آٹھ: میڈیکل ٹیپ کا رول۔ نو: مختلف سائز کے بینڈ ایڈ۔ دس: گاز پٹی اور کرے پٹی کا رول۔ گیارہ: قینچی اور چمٹی۔ بارہ: ڈیجیٹل تھرمامیٹر۔

ریسکیو کب بُلائیں، کب خود لے جائیں، کب رکیں۔ 1122 یا ایدھی 115 کو فون کریں اگر شخص بے ہوش ہے، دورہ پڑ رہا ہے، سانس میں دشواری ہے، خون اِتنا بہہ رہا ہے کہ دس منٹ مضبوط دباؤ سے بھی نہیں رکتا، سر کی چوٹ کے بعد الجھن یا قے ہے، یا کرنٹ لگا ہے۔ خود کلینک یا ہسپتال ER لے جائیں اگر شخص ہوش میں اور مستحکم ہے مگر چوٹ بینڈ ایڈ سے زیادہ ہے: ٹانکوں والا کٹ، ممکنہ ہڈی کی شکستگی، ہتھیلی سے بڑا جلن، یا چار گھنٹے کی قے والی فوڈ پوائزننگ۔ گھر پر کٹ سے علاج کریں اگر چھوٹا کٹ ہے، چھوٹا جلن، 102 سے کم بخار، وزن سہنے والی موچ، یا ORS سے بہتر ہوتا معدہ۔

کٹ کو صحیح طریقے سے صاف کرنا۔ پہلے اپنے ہاتھ صابن سے دھوئیں۔ کٹ پر ٹھنڈا نل کا پانی ایک پورا منٹ بہائیں تاکہ گرد نکل جائے۔ صاف کپڑے سے تھپتھپا کر خشک کریں، روئی سے نہیں (روئی کے ریشے زخم میں چلے جاتے ہیں)۔ تازہ روئی پر پایوڈین لگا کر کٹ کے گرد لگائیں، اندر کبھی نہیں۔ چھوٹے کٹ پر بینڈ ایڈ، بڑے پر گاز اور ٹیپ۔ پٹی روزانہ بدلیں۔ تیسرے یا چوتھے دن کنارے سرخ، سوجن، دھڑکن، یا بُو آئے، تو یہ انفیکشن ہے؛ اینٹی بائیوٹک کے لیے کلینک جائیں۔

کچن یا استری سے جلن کا علاج۔ جلن کو ٹھنڈے نل کے پانی کے نیچے رکھیں (برف نہیں، ٹوتھ پیسٹ نہیں، آٹا نہیں، گھی نہیں، یہ سب خالائیں مشورہ دیں گی مگر سب گرمی روکتے ہیں یا انفیکشن بڑھاتے ہیں)، پورے پندرہ منٹ۔ گھڑی دیکھیں؛ تین منٹ بعد رکنے کی خواہش بہت ہوگی، اور تین منٹ کافی نہیں۔ پندرہ منٹ بعد، خشک کریں، برنول کی پتلی تہہ لگائیں، گاز سے ڈھیلا ڈھک دیں۔ اگر جلن ہتھیلی سے بڑا ہے، سو روپے کے نوٹ سے بڑے رقبے پر چھالے ہیں، یا چہرے، ہاتھوں، پاؤں، یا شرمگاہ پر ہے، تو ER لے جائیں؛ صرف کریم لگاتے نہ رہیں۔

یہ کٹ ڈاکٹر کا متبادل نہیں؛ ڈاکٹر تک کا پُل ہے۔ پُل کا اچھی حالت میں ہونا ضروری ہے۔ ہر چھ مہینے بعد، ڈبہ کھولیں، ہر دوا کی میعاد چیک کریں، استعمال شدہ چیز بدلیں۔ پہلی جنوری اور پہلی جولائی کے لیے کیلنڈر یاد دہانی لگائیں۔ پہلی بار کھولنے کا دن آج ہی ہو۔

تخمینی وقت: 13 منٹ