Skip to content
سبق 1

Marks On Paper

آج آپ کاغذ پر نشان بنائیں گے۔ بس اتنا ہی۔ نشان وہ ہے جو آپ کا ہاتھ کاغذ پر رکھتا ہے۔ ایک نقطہ، ایک لکیر، ایک گول گھماؤ، ایک ٹیڑھی میڑھی شکل، کوئی بھی شکل۔ کوئی نشان اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ بس وہ نشان ہوتا ہے جو آپ نے بنا…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

آج آپ کاغذ پر نشان بنائیں گے۔ بس اتنا ہی۔ نشان وہ ہے جو آپ کا ہاتھ کاغذ پر رکھتا ہے۔ ایک نقطہ، ایک لکیر، ایک گول گھماؤ، ایک ٹیڑھی میڑھی شکل، کوئی بھی شکل۔ کوئی نشان اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ بس وہ نشان ہوتا ہے جو آپ نے بنایا، اور وہ نشان جو آپ آگے بنائیں گے۔ بچہ لکھنا سیکھنے سے بہت پہلے کوئلہ پکڑنا، انگلی ہلدی میں ڈبونا، یا پرانی کاپی کی پشت پر پنسل گھسیٹنا جانتا ہے۔ تصویر بنانا لکھنے سے پرانی بات ہے۔ آپ کا ہاتھ برسوں سے تیار ہے۔

شروع کرنے کے لیے تین شکلیں کافی ہیں۔ گول، جیسے روٹی یا لاہور کے آسمان پر چاند۔ لکیر، جیسے چارپائی کا کنارا۔ مثلث، جیسے بہاولپور کے کسی چھوٹے گاؤں کے گھر کی چھت۔ ان تین شکلوں سے آپ تقریباً ہر چیز بنا سکتے ہیں۔ بلی دو گول اور ایک مثلث ہے۔ ٹرک ایک لمبا چوکور، دو پہیوں کے گول، اور کھڑکیوں کے چھوٹے مربع ہیں۔ پتنگ دو مثلث ہیں جو نیچے سے جڑے ہیں۔ آہستہ آہستہ بنائیں۔ پنسل اٹھائیں۔ پھر رکھیں۔

اپنے کمرے میں کوئی ایک چیز دیکھیں۔ پانی کا گلاس، چپل، یا پھل کا چھوٹا ٹکڑا۔ یاد سے نہ بنائیں۔ دیکھتے ہوئے بنائیں۔ آپ کی نظر کنارے کے ساتھ آہستہ چلتی ہے۔ ہاتھ پیچھے پیچھے آتا ہے۔ تصویر بالکل ویسی نہیں بنے گی جیسی چیز ہے۔ یہ ٹھیک ہے۔ تصویر دیکھنے کا ریکارڈ ہے، فوٹو نہیں۔ غور سے دیکھنا اصل سبق ہے۔ تصویر تو دیکھنے کا چھوڑا ہوا تحفہ ہے۔

تخمینی وقت: 10 منٹ