Skip to content
سبق 1

Hand Washing And Water

آپ کے ہاتھ گیٹ، اسکول بیگ، کرکٹ کی گیند، چپس کے پیکٹ، اور باتھ روم کے دروازے کے ہینڈل کو چھوتے ہیں۔ ان ہینڈلز پر ننھے جاندار بیٹھے ہوتے ہیں جنہیں جراثیم کہتے ہیں۔ آپ انہیں دیکھ نہیں سکتے۔ یہ آپ کی کاپی کے سب سے چھوٹے نق…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

آپ کے ہاتھ گیٹ، اسکول بیگ، کرکٹ کی گیند، چپس کے پیکٹ، اور باتھ روم کے دروازے کے ہینڈل کو چھوتے ہیں۔ ان ہینڈلز پر ننھے جاندار بیٹھے ہوتے ہیں جنہیں جراثیم کہتے ہیں۔ آپ انہیں دیکھ نہیں سکتے۔ یہ آپ کی کاپی کے سب سے چھوٹے نقطے سے بھی چھوٹے ہیں۔ جب آپ ان ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہیں تو جراثیم پیٹ میں چلے جاتے ہیں اور آپ بیمار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں دو بڑی بیماریاں گندے ہاتھوں سے آتی ہیں۔ ایک کا نام ہیضہ ہے، جس سے کئی دن دست لگتے ہیں۔ دوسری کا نام یرقان ہے، جس سے آنکھیں پیلی ہو جاتی ہیں۔ دونوں کو ایک سادہ سی عادت روک سکتی ہے۔ ہاتھ دھونا۔

ہاتھ کب دھونے چاہئیں؟ ہر دن کم از کم پانچ بار۔ کھانے سے پہلے۔ باتھ روم کے بعد۔ اسکول یا باہر کھیل کر گھر آنے کے بعد۔ کچن میں مدد کرنے سے پہلے۔ بلی، کتے، یا بکریوں کو ہاتھ لگانے کے بعد۔ اگر آپ کے اسکول کے باتھ روم میں صابن نہیں تو اسکول بیگ میں ایک چھوٹی ٹکیہ رکھیں۔ اگر نل پر صاف پانی نہیں تو استاد کو بتائیں۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔ یہ سب سے بڑی بات ہے۔

ایک آخری بات۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں نل کا پانی پینے کے لیے ہمیشہ محفوظ نہیں۔ اگر گھر میں پانی ابال کر پیا جاتا ہے، یہ اچھا ہے۔ اگر اسکول میں صاف فلٹر ہے، یہ بھی اچھا ہے۔ اگر یقین نہ ہو تو گھر میں ماں یا والد کا تیار کیا ہوا کولر کا پانی پئیں۔ جو ہاتھ کھانے سے پہلے دھوئیں گے، وہی ہاتھ ایک دن چھوٹے بھائی بہن کا خیال رکھیں گے۔ یہ عادت ابھی شروع کریں جب آسان ہے۔

تخمینی وقت: 8 منٹ