Sleep Is Not Lazy
پاکستانی گھروں میں ایک خاموش جھوٹ چلتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ جتنا زیادہ سوؤ گے اتنا سست ہو۔ دس سال کا بچہ جو نو گھنٹے سوتا ہے، کبھی کبھی سست کہلاتا ہے۔ وہ کزن جو رات دو بجے تک پڑھے، محنتی کہلاتا ہے۔ دونوں غلط ہیں۔ نیند کا…
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
پاکستانی گھروں میں ایک خاموش جھوٹ چلتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ جتنا زیادہ سوؤ گے اتنا سست ہو۔ دس سال کا بچہ جو نو گھنٹے سوتا ہے، کبھی کبھی سست کہلاتا ہے۔ وہ کزن جو رات دو بجے تک پڑھے، محنتی کہلاتا ہے۔ دونوں غلط ہیں۔ نیند کام کا الٹ نہیں۔ نیند وہ وقت ہے جب آپ کا کام محفوظ ہوتا ہے۔ جب آپ سوتے ہیں، دماغ اسکول میں سیکھی ہوئی چیزیں جوڑتا ہے۔ ہڈیاں لمبی ہوتی ہیں۔ جسم چھوٹے انفیکشن سے لڑتا ہے جن کا آپ کو پتا بھی نہیں چلا۔ نیند چھوڑیں، اور یہ سب چھوٹ جائے گا۔
آپ کی نیند کون چرا رہا ہے؟ تقریباً ہمیشہ ایک ہی چیز: آپ کے چہرے سے چھ انچ دور چمکتی ہوئی اسکرین۔ فون، ٹیبلٹ، اور ٹی وی سے نیلی روشنی نکلتی ہے جو دماغ کو کہتی ہے کہ ابھی دن ہے۔ دماغ ایک کیمیکل میلاٹونن کو روک لیتا ہے جو نیند لاتا ہے۔ ویڈیو کہتا ہے ایک اور ریل، ایک اور ریل، اور دماغ مان لیتا ہے کیونکہ اسے وقت کا اندازہ نہیں۔ جب آپ فون نیچے رکھتے ہیں، نوے منٹ ضائع ہو چکے ہوتے ہیں۔ حل چھوٹا ہے لیکن مشکل ہے۔ فون سونے سے ایک گھنٹہ پہلے کمرے سے نکل جائے۔
اور کیا چیزیں مدد کرتی ہیں۔ ٹھنڈا کمرہ، اگر پنکھا ہو تو تقریباً 22 ڈگری۔ اندھیرا کمرہ، پتلا پردہ بھی مدد کرتا ہے۔ سونے کا مستقل وقت، آدھے گھنٹے کا فرق ٹھیک ہے، ہفتے کے دن بھی۔ شام چھ بجے کے بعد چائے، چاکلیٹ، یا کولا نہیں، کیونکہ کیفین چھ گھنٹے خون میں رہتی ہے۔ تکیے کے نیچے فون کے بجائے ایک کتاب۔ دو منٹ کی سانس کی گنتی: چار میں اندر، چھ میں باہر، دس بار۔ دسویں دفعہ تک آپ کا آدھا حصہ پہلے ہی سو چکا ہوگا۔
تخمینی وقت: 10 منٹ