Money On The Internet
زیادہ تر نوجوان پاکستانی پہلی بار جب انٹرنیٹ پر اصلی پیسہ چھوتے ہیں، وہ نوکری سے نہیں ہوتا۔ وہ کسی فراڈ سے ہوتا ہے۔ یا تو جعلی JazzCash ایس ایم ایس جو کہتا ہے کہ آپ نے پچاس ہزار جیتے ہیں اور شناختی کارڈ کی تصدیق چاہیے، …
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
زیادہ تر نوجوان پاکستانی پہلی بار جب انٹرنیٹ پر اصلی پیسہ چھوتے ہیں، وہ نوکری سے نہیں ہوتا۔ وہ کسی فراڈ سے ہوتا ہے۔ یا تو جعلی JazzCash ایس ایم ایس جو کہتا ہے کہ آپ نے پچاس ہزار جیتے ہیں اور شناختی کارڈ کی تصدیق چاہیے، یا Facebook کا ایسا اشتہار جو ڈالر میں ادائیگی کے ساتھ فری لانس کام دکھاتا ہے مگر ایک ہزار روپے رجسٹریشن مانگتا ہے، یا Instagram کا ایسا بیچنے والا جو کرتے کا پیسہ لے کر غائب ہو جاتا ہے۔ ملک ایک خاموش منتقلی کے بیچ میں ہے۔ نقد کو Easypaisa، JazzCash، NayaPay، اور وہ کارڈ بدل رہے ہیں جو بینک اب 18 سال والوں کو دینے لگے ہیں۔ ہر نئے والٹ کے ساتھ سو نئے طریقے ہیں اس میں موجود رقم کھونے کے۔ یہ سبق اس کی مختصر فہرست ہے کہ اپنا والٹ کیسے بچائیں۔
جعلی JazzCash ایس ایم ایس۔ یہ بالکل اصلی جیسا لگتا ہے۔ بھیجنے والے کے نام میں JazzCash لکھا ہوتا ہے۔ متن یہ ہے، آپ کو کسی صارف کی طرف سے 5000 روپے موصول ہوئے ہیں، براہِ کرم یہ لنک دبا کر تصدیق کریں۔ لنک ایسا صفحہ کھولتا ہے جو JazzCash ایپ جیسا لگتا ہے، آپ سے فون نمبر، پن، اور JazzCash کا اپنا تصدیقی کوڈ مانگتا ہے۔ جیسے ہی آپ تینوں ٹائپ کرتے ہیں، آپ کو 5000 موصول نہیں ہوئے۔ آپ نے فراڈ کرنے والے کو والٹ کی چابیاں دے دیں۔ منٹوں میں آپ کا ہر روپیہ کسی دوسرے نمبر پر منتقل ہو جاتا ہے، جو ابھی کسی اور کے نام پر کھلا ہے اور ایک گھنٹے میں بند ہو جائے گا۔ پورے اس قسم کے حملے کو شکست دینے کا ایک اصول یہ ہے کہ آپ اپنا پن یا تصدیقی کوڈ کسی پیغام میں آنے والی چیز میں ٹائپ نہ کریں۔ آپ کا بینک یہ پہلے ہی جانتا ہے۔ کوئی اور پوچھ رہا ہے، تو وہ آپ کا بینک نہیں۔
ایسے فری لانس کام جو دراصل کام نہیں ہوتے۔ انٹرنیٹ ایسے اشتہاروں سے بھرا ہے جو ڈالر کمانے کے خواہشمند نوجوان پاکستانیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ روزانہ چند جملے ٹائپ کریں، USD میں کمائیں۔ امریکی AI کمپنی کے لیے ڈیٹا لیبلر بنیں۔ اپنا ڈراپ شپنگ اسٹور چلائیں۔ ان میں سے زیادہ تر اصل کام کی قسمیں ہیں۔ ان کے ارد گرد جعلی نقول کی پوری صنعت بھی ہے۔ جعلی نقول تین چیزوں میں سے کوئی ایک مانگتی ہیں۔ رجسٹریشن فیس۔ ایسا لیپ ٹاپ جو ان کے ذریعے منگوانا ضروری ہو۔ درخواست سے پہلے کسی کورس کی سبسکرپشن۔ Upwork یا Fiverr جیسے پلیٹ فارم پر اصل آجر آپ سے درخواست کے لیے فیس نہیں لیتے۔ وہ کمیشن صرف ادائیگی کے بعد کاٹتے ہیں۔ جس جملے پر آپ کو پلٹ کر چلے جانا چاہیے، وہ ہے، اس چھوٹی رقم کی ادائیگی کر کے موقع کھولیں۔ اس دیوار کے پیچھے کوئی موقع نہیں۔
آجر کی اصلیت کیسے جانچیں۔ کوئی بھی آن لائن کام قبول کرنے سے پہلے تین جانچ۔ ایک، Google پر کمپنی کا نام scam لفظ کے ساتھ تلاش کریں۔ زیادہ تر جعلی کام پہلے ہی پچھلے شکار رپورٹ کر چکے ہوتے ہیں۔ دو، LinkedIn پر کمپنی کی موجودگی دیکھیں اور ایسے ملازمین تلاش کریں جو ایک سال سے زیادہ وہاں ہوں۔ کراچی کی اصل ایجنسی، جو فری لانسر کو ادائیگی کرتی ہے، LinkedIn پر کم از کم تین ایسے لوگ رکھتی ہے جو اس کے کام کے بارے میں پوسٹ کرتے ہیں۔ تین، کسی پہچانے پلیٹ فارم سے ادائیگی کا کہیں۔ Upwork۔ Payoneer۔ آپ کے بینک پر براہِ راست بین الاقوامی منتقلی۔ Western Union سے انکار کریں۔ ڈیجیٹل کام کے لیے کیش آن ڈیلیوری سے انکار کریں۔ کسی ایسے سے کرپٹو میں ادائیگی سے انکار کریں جس سے آپ کبھی نہیں ملے۔ اگر آجر تینوں پر اڑ جائے، تو وہ آجر نہیں۔ نکل جائیں۔
ایک آخری اصول جو تمام مخصوص قواعد سے اوپر ہے۔ انٹرنیٹ ان نوجوانوں کی خوشامد کرتا ہے جو جلدی پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ ہر پاکستانی ٹک ٹاکر جو دعویٰ کرتا ہے کہ ایک ماہ میں ایک کروڑ کمایا، غور کرنے پر، یا تو رقم کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے، یا مہینوں کی تعداد کے بارے میں، یا کسی رشتہ دار کی سرمایہ کاری کو منافع گن رہا ہے۔ اصل پاکستانی فری لانسر جو اچھا کرتے ہیں، جن کی کمائی گھر چلاتی ہے، آپ کو سچ بتائیں گے۔ پہلا سال چھوٹا ہوتا ہے۔ دوسرا سال دگنا۔ تیسرا سال فخر کے قابل۔ ان میں سے کوئی ایک ماہ میں نہیں پہنچا۔ کسی نے شروع کرنے کے لیے رجسٹریشن فیس نہیں دی۔ کوئی تصویریں بھیج کر نہیں بڑھا۔ ایمانداری کا راستہ سست، بے رنگ، اور تقریباً شرم آنے کی حد تک عام ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے آخر میں آپ کے پاس رہنے والی رقم ہوتی ہے۔ وہاں سے شروع کریں۔ صبر کریں۔ کوئی چھوٹا راستہ نہیں، اور جو پیش کر رہا ہے، وہی شخص ہے جس سے دور چلنا ضروری ہے۔
تخمینی وقت: 13 منٹ