Skip to content
سبق 2

Eye Contact And Stance

پاکستانی کلاس میں ایک بچے کو دیکھیں جسے بلند آواز میں پڑھنے کو کہا گیا۔ کتاب چہرہ ڈھانپ لیتی ہے۔ کندھے جھک جاتے ہیں۔ ایک پاؤں اٹھ کر دوسرے ٹخنے پر ٹک جاتا ہے، جیسے سیالکوٹ کے کنارے کھڑا بگلا۔ آواز سرگوشی بن جاتی ہے جسے …

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

پاکستانی کلاس میں ایک بچے کو دیکھیں جسے بلند آواز میں پڑھنے کو کہا گیا۔ کتاب چہرہ ڈھانپ لیتی ہے۔ کندھے جھک جاتے ہیں۔ ایک پاؤں اٹھ کر دوسرے ٹخنے پر ٹک جاتا ہے، جیسے سیالکوٹ کے کنارے کھڑا بگلا۔ آواز سرگوشی بن جاتی ہے جسے پچھلی صفیں نہیں سن سکتیں۔ یہ سب پڑھنے کی بات نہیں۔ جسم نے غائب ہونے کا فیصلہ کیا، اور آواز اس کے پیچھے چلی۔ الفاظ سے پہلے جسم۔ جسم درست ہو جائے، تو آواز خود درست ہو جاتی ہے۔

اب نظر ملانا۔ پاکستانی کلاسیں اسے پیچیدہ بناتی ہیں۔ بزرگ استاد کی آنکھ میں سیدھا دیکھنا گستاخی لگ سکتی ہے۔ ساتھیوں کو دیکھنے سے ہنسی شروع ہو سکتی ہے۔ فرش پر دیکھنا محفوظ آپشن ہے، مگر آواز مار دیتی ہے۔ درمیانی راستہ پیشانی والا ہے۔ کمرے میں تین جگہیں چنیں: سامنے بائیں، درمیان، سامنے دائیں۔ ہر جگہ ایک شخص کی پیشانی پر دیکھیں، آنکھ پر نہیں۔ ہر دو تین جملے بعد بدلیں۔ سامعین کو پیشانی والا انداز نظر ملانا لگتا ہے، اور آپ کو پھنسے ہوئے کا احساس نہیں ہوتا۔

ایک وقت میں ایک شخص۔ یہ قاعدہ نئے مقرر کی زیادہ تر گھبراہٹ ٹھیک کر دیتا ہے۔ نئے مقرر پورے کمرے کو دیکھنا چاہتے ہیں اور چھت کو دیکھنے لگتے ہیں۔ اپنے آپ کو سکھائیں کہ ایک چہرے پر ایک پورا جملہ ٹکیں۔ جملہ ختم کریں۔ پھر ہٹیں۔ سامعین کو پراعتماد مقرر نظر آتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے یکے بعد دیگرے ایک ایک شخص سے بات ہو رہی ہے، ہر بار صرف چند سیکنڈ، اور اجنبیوں سے بھرے کمرے جتنی خوفناک نہیں۔

پاکستانی مخلوط سامعین میں خواتین مقررین کے لیے ایک بات۔ پیشانی والی ترکیب یہاں خاص مفید ہے۔ یہ آپ کو پورے کمرے سے پوری توانائی سے بات کرنے دیتی ہے بغیر کسی ایک چہرے کو ناراض کیے۔ بہت سی بہترین پاکستانی خواتین مقررین، عاصمہ جہانگیر سے عدالتوں میں لے کر صبح کی اسمبلی میں اسکول کی پرنسپلز تک، یہی ترکیب بغیر نام لیے استعمال کرتی رہیں۔ ابھی جان بوجھ کر سیکھ لیں اور دس سال کا اتفاقی سفر بچا لیں۔

اختتامی بات۔ نظر ملانا اور اسٹینس شخصیت کی صفات نہیں۔ یہ بٹن ہیں جو آپ دبا سکتے ہیں۔ شرمیلا طالب علم اور بلند آواز والا، دونوں کے پاس وہی بٹن ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس دن کون سا طالب علم بٹن دبانا یاد رکھتا ہے۔ کسی بھی کلاس پریزنٹیشن سے پہلے ایک چھوٹا الارم لگائیں: پاؤں جمے، کندھے نیچے، تین پیشانی کے مقامات، ہر جملے میں ایک چہرہ۔ دو سہ ماہی بعد الارم عادت بن جاتا ہے، اور عادت اسٹیج پر آپ کی پہچان۔

تخمینی وقت: 12 منٹ