When To Trust An Expert
پاکستان ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو خود کو ماہر کہلاتے ہیں۔ شوکت خانم میں PMDC رجسٹرڈ ڈاکٹر، گلی کے کونے پر دھندلے بورڈ والا حکیم، نوٹس بھیجنے والا FBR کمشنر، واٹس ایپ والا انکل جو کبھی امریکا میں تعینات تھا۔ کوئی بھی …
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
پاکستان ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو خود کو ماہر کہلاتے ہیں۔ شوکت خانم میں PMDC رجسٹرڈ ڈاکٹر، گلی کے کونے پر دھندلے بورڈ والا حکیم، نوٹس بھیجنے والا FBR کمشنر، واٹس ایپ والا انکل جو کبھی امریکا میں تعینات تھا۔ کوئی بھی خود بخود صحیح یا غلط نہیں ہے۔ سوچنے والے انسان کا کام یہ جاننا ہے کہ ماہر پر کب اعتماد کرنا ہے، اور کتنا۔
تین فلٹر جو واقعی کام کرتے ہیں۔ فلٹر ایک: متعلقہ شعبے کی اسناد۔ کارڈیالوجسٹ دل کی بیماری پر مضبوط ماخذ ہے، ٹیکس قانون پر کمزور۔ اکاؤنٹنٹ ٹیکس فائلنگ پر مضبوط ہے، کینسر علاج پر کمزور۔ گلی کا حکیم شاید جڑی بوٹیوں کے بارے میں بہت جانتا ہو، مگر چلتے دل کے دورے کے بارے میں بہت کم۔ دکان پر لگا بورڈ PMDC رجسٹریشن کے برابر نہیں۔ ہمیشہ دیکھیں کہ سند سوال سے میل کھاتی ہے یا نہیں۔
فلٹر دو: مفادات کا ٹکراؤ۔ جس ڈاکٹر کا اپنا دل کا ہسپتال ہو اور وہ آپ کو اسٹینٹ ڈلوانے کا کہے، اُس کے پاس یہ مشورہ دینے کا مالی سبب ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹر بے ایمان ہے؛ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے ڈاکٹر سے دوسری رائے لینا قیمتی ہے جس کا یہ ٹکراؤ نہ ہو۔ یہی بات پراپرٹی ڈیلر، ٹیلی کام CEO، اور ٹیوشن سینٹر مالک پر بھی لاگو ہے۔
فلٹر تین: تصدیق۔ کیا ماہر کے دعوے کی تصدیق دوسرے لوگوں نے کی ہے جو وہی کام کرتے ہیں؟ طب میں یہ PubMed پر شائع ٹرائلز ہیں۔ معیشت میں دوسرے ماہرین کا اُسی ڈیٹا پر دہرایا گیا تجزیہ۔ ٹیکس قانون میں یہ کہ کمشنر جس FBR رول کا حوالہ دے رہا ہے، کیا وہ Income Tax Ordinance میں موجود ہے، جو fbr.gov.pk پر پڑھ سکتے ہیں۔ اگر دعویٰ نہ تو دہرایا جا سکے نہ ڈھونڈا جا سکے، تو یہ وردی پہنے ہوئے ایک شخص کی رائے ہے۔
اِسے ایک حقیقی صورت پر لگائیں۔ والد کو FBR سے 200،000 روپے ٹیکس واجبات کا نوٹس ملتا ہے۔ کزن واٹس ایپ پر بھیجتا ہے کہ یہ فشنگ سکیم ہے، نظر انداز کریں۔ کیا کریں؟ نہ گھبرائیں نہ نظر انداز کریں۔ والد کے iris.fbr.gov.pk اکاؤنٹ میں لاگ ان ہو کر نوٹس کا ریفرنس نمبر جانچیں؛ وہاں موجود ہو تو اصلی ہے۔ نوٹس میں جس آرڈیننس سیکشن کا حوالہ ہے، وہ پڑھیں۔ ایک رجسٹرڈ ٹیکس وکیل سے 5،000 سے 10،000 روپے کی ایک مشاورت لینے پر غور کریں؛ اُس میں فلٹر ایک اور تین موجود ہیں مگر فلٹر دو کا چھوٹا ٹکراؤ ہے، کیونکہ وہ آپ کا کام چاہتا ہے۔ تین فلٹر، تین نظریات، ایک پرسکون فیصلہ۔
ماہر ایک انسان ہے، غیب کا جاننے والا نہیں۔ بہترین بھی کبھی کبھی غلط ہوتے ہیں۔ اُن پر اُن کے شعبے میں اعتماد کریں، اُن کا ٹکراؤ ذہن میں رکھیں، اور کم از کم ایک دوسری نگاہ کے ساتھ۔ یہ بے ادبی نہیں ہے۔ یہ اُن کے کام کے ساتھ وہی برتاؤ کرنے کا احترام ہے جو وہ خود اپنے کام کے ساتھ کرتے ہیں۔
تخمینی وقت: 14 منٹ