Freelance Income And Fbr
پاکستان میں تقریباً بیس لاکھ فری لانسر Fiverr، Upwork، Toptal، اور براہ راست کلائنٹس سے ڈالر کما رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب اِس زمرے کو باضابطہ تسلیم کرتا ہے۔ FBR بھی۔ ایماندار راستہ، جو پولی میتھ سکھاتا ہے، یہ ہ…
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
پاکستان میں تقریباً بیس لاکھ فری لانسر Fiverr، Upwork، Toptal، اور براہ راست کلائنٹس سے ڈالر کما رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب اِس زمرے کو باضابطہ تسلیم کرتا ہے۔ FBR بھی۔ ایماندار راستہ، جو پولی میتھ سکھاتا ہے، یہ ہے کہ فری لانس آمدنی پر FBR میں رجسٹریشن کریں، NTN بنوائیں، ہر سال گوشوارہ جمع کرائیں، اور جو تھوڑا ٹیکس بنتا ہے ادا کریں۔ غیر ایماندار راستہ یہ ہے کہ ڈالر کا انکار کر دیں۔ پہلا راستہ تیس سال چلتا ہے۔ دوسرا اُس لمحے ٹوٹ جاتا ہے جب کوئی بینک، امیگریشن افسر، یا قرض دہندہ آمدنی کا ثبوت مانگے۔
پہلا قدم NTN یعنی نیشنل ٹیکس نمبر ہے۔ یہ بیس منٹ میں آن لائن مل جاتا ہے۔ براؤزر میں iris.fbr.gov.pk کھولیں۔ Registration for Unregistered Person پر کلک کریں۔ CNIC، موبائل، اور ای میل درج کریں۔ پورٹل دو OTP بھیجتا ہے، ایک فون پر اور ایک ای میل پر۔ تصدیق کے بعد بنیادی پروفائل بھریں: پتہ، آمدنی کا ذریعہ (Business منتخب کر کے ذیلی زمرہ میں Services لکھیں، کیونکہ فری لانسنگ ایک خدمت ہے)، اور بینک اکاؤنٹ تفصیل۔ جمع کرائیں۔ NTN اُسی دن جاری ہو جاتا ہے، اور یہ آپ کے CNIC نمبر کے برابر ہوتا ہے، بغیر ڈیشز کے۔
دوسرا قدم Proceeds Realisation Certificate یعنی PRC ہے۔ جب بھی کوئی غیر ملکی کلائنٹ آپ کو پاکستانی بینک کے ذریعے ادائیگی کرے، آپ بینک سے اُس ٹرانزیکشن کا PRC مانگ سکتے ہیں۔ PRC وہ سرکاری دستاویز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ یہ ڈالر بیرونِ ملک سے آیا، فلاں تاریخ کو فلاں شرح پر روپوں میں تبدیل ہوا۔ PSEB اور FBR IT برآمدات کی رعایتی شرح کے لیے PRC طلب کرتے ہیں۔ میزان، HBL، اور UBL مانگنے پر مفت دیتے ہیں؛ کچھ پرائیویٹ بینک فی سرٹیفکیٹ دو سو روپے لیتے ہیں۔ ہر ماہ جمع کرتے رہیں، ٹیکس فائلنگ کے موسم تک نہ روکیں۔
تیسرا قدم سالانہ گوشوارہ ہے۔ پاکستان کا مالی سال 1 جولائی سے 30 جون تک۔ تنخواہ دار کی فائلنگ کی آخری تاریخ عموماً 30 ستمبر ہوتی ہے۔ دوبارہ iris.fbr.gov.pk کھولیں۔ گوشوارہ فارم لمبا لگتا ہے۔ چار سیکشن بھریں جو آپ پر لاگو ہوں: ذاتی معلومات، آمدنی (Business Income میں اپنی کل فری لانس کمائی، PRCs بطور ثبوت لگائیں)، پہلے ادا شدہ ٹیکس (بینک نے 0.25 فیصد ذرائع پر کاٹ لیا ہوگا)، اور اثاثے (بینک بیلنس، فون، موٹر سائیکل؛ ہر شے جس کی قیمت 100,000 سے زائد ہو، درج کریں)۔ جمع کرائیں۔ آپ Active Taxpayer بن جاتے ہیں۔ فائلر کی حیثیت FBR کی Active Taxpayer List میں عوامی طور پر نظر آتی ہے۔
صوبائی سیلز ٹیکس برائے خدمات۔ اگر آپ کی سالانہ بلنگ حد سے زیادہ ہو، فی الحال زیادہ تر صوبوں میں تقریباً تیس لاکھ روپے، تو متعلقہ صوبائی ریونیو اتھارٹی بھی آپ کی رجسٹریشن چاہتی ہے۔ پنجاب میں PRA، سندھ میں SRB، KP میں KPRA، بلوچستان میں BRA۔ خدمات پر 13 سے 16 فیصد۔ تیس لاکھ سے کم سالانہ کمائی والے زیادہ تر فری لانسر اِس حد سے نیچے ہوتے ہیں اور صرف FBR سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہ حد عبور کرتے ہی رجسٹریشن لازم ہو جاتی ہے، اور کلائنٹس سے ٹیکس الگ سے وصول کرنا ہوتا ہے۔ یہی وہ موقع ہے جب اکاؤنٹنٹ ضروری بن جاتا ہے۔
تخمینی وقت: 15 منٹ