Skip to content
سبق 2

Deadlines And Buffer

ایک اصول ہے جو تقریباً ہر بڑا انسان مشکل سے سیکھتا ہے، اور ہر طالب علم جلد سیکھ سکتا ہے اگر دھیان دے۔ آپ جتنا وقت سوچتے ہیں ایک کام میں لگے گا، اُس سے زیادہ ہی لگتا ہے۔ کبھی کبھی نہیں، تقریباً ہمیشہ۔ ایماندار منصوبہ ساز…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

ایک اصول ہے جو تقریباً ہر بڑا انسان مشکل سے سیکھتا ہے، اور ہر طالب علم جلد سیکھ سکتا ہے اگر دھیان دے۔ آپ جتنا وقت سوچتے ہیں ایک کام میں لگے گا، اُس سے زیادہ ہی لگتا ہے۔ کبھی کبھی نہیں، تقریباً ہمیشہ۔ ایماندار منصوبہ ساز کسی کو دکھانے سے پہلے اپنے اندازے کو دگنا کر دیتا ہے۔ ہم اِسے 50 فیصد بفر کا اصول کہتے ہیں، اور پاکستان میں یہ 100 فیصد کے قریب ہوتا ہے۔

اتنا اضافی وقت کیوں۔ کیونکہ پاکستان کی حقیقت کا اپنا قانون ہے۔ لوڈ شیڈنگ دو گھنٹے کھا جاتی ہے بالکل اُس وقت جب پرنٹر آخرکار چل رہا ہو۔ مال روڈ پر بند سے کیک 90 منٹ لیٹ ہو جاتا ہے۔ مون سون 20 منٹ کی رکشہ سواری کو 70 منٹ کا گیلا سفر بنا دیتا ہے۔ لیپ ٹاپ کا چارجر جمع کرانے سے ایک رات پہلے بند ہو جاتا ہے۔ یہ آپ کی غلطی نہیں ہے۔ مگر اِن کے گرد منصوبہ بندی کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

یہ ترکیب اِسے حقیقی بناتی ہے۔ دو تاریخیں لکھیں۔ اندرونی ڈیڈ لائن، جو آپ خود سے کہتے ہیں، اور بیرونی ڈیڈ لائن، جو استاد، چچا یا گاہک کو معلوم ہے۔ اندرونی، بیرونی سے کم از کم ایک دن پہلے۔ اگر آپ اندرونی تاریخ پر مکمل کر لیں، تو ایک دن کا بفر بچ گیا۔ اگر پھسلیں، تب بھی بیرونی تاریخ پر پہنچ جائیں گے۔ جن لوگوں کے ذہن میں صرف ایک تاریخ ہوتی ہے، وہ تقریباً ہمیشہ پھسلتے ہیں۔

آج کی عادت۔ اِس ہفتے کی کوئی ڈیڈ لائن لیں۔ ایماندار اندازہ لکھیں۔ اُسے 1.5 سے ضرب دیں۔ پھر بیرونی ڈیڈ لائن سے ایک پورا دن گھٹا کر اندرونی ڈیڈ لائن بنائیں۔ کسی ایک کو بتا دیں۔ وہ شخص آپ کے بفر کا محافظ بن جائے گا۔ یوں ہی شپ کرنے والے لوگ جیتے ہیں، اور صرف یہی لوگ ہیں جن کا کام دنیا تک پہنچتا ہے۔

تخمینی وقت: 12 منٹ