Skip to content
سبق 1

Your First Program

پریکٹیشنر سلسلے میں خوش آمدید۔ اب تک ہم نے کمپیوٹر کے بارے میں باہر سے بات کی، جیسے گاڑی کی چابی گھمائے بغیر اسے بیان کیا جائے۔ یہاں سے ہم ڈرائیور کی نشست پر بیٹھتے ہیں۔ کسی بھی زبان کے کسی بھی پروگرامنگ سلسلے کا پہلا س…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

پریکٹیشنر سلسلے میں خوش آمدید۔ اب تک ہم نے کمپیوٹر کے بارے میں باہر سے بات کی، جیسے گاڑی کی چابی گھمائے بغیر اسے بیان کیا جائے۔ یہاں سے ہم ڈرائیور کی نشست پر بیٹھتے ہیں۔ کسی بھی زبان کے کسی بھی پروگرامنگ سلسلے کا پہلا سبق ایک ہی ہے۔ آپ ایک چھوٹا سا پروگرام لکھتے ہیں جو کمپیوٹر سے ہیلو کہلواتا ہے۔ زیادہ تر کورس انگریزی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ہم آپ کے کمپیوٹر سے اردو میں نانی کو سلام کہلوائیں گے۔ پہلا پروگرام لکھنے کا دن وہ دن ہے جب گھر میں ایک نیا اوزار شامل ہوتا ہے۔ اسے یہ جاننا چاہیے کہ گھر میں کون رہتا ہے۔

پہلے، وہ جگہ جہاں ہم ٹائپ کریں گے۔ کسی بھی براؤزر میں Replit dot com کھولیں۔ Replit ایک مفت سائٹ ہے جہاں آپ کوئی چیز انسٹال کیے بغیر کوڈ لکھ کر چلا سکتے ہیں۔ پاکستان میں یہ بات اہم ہے۔ گھر کا انٹرنیٹ سست ہو سکتا ہے۔ تین بہن بھائیوں سے شیئر کیا گیا لیپ ٹاپ پرانا ہو سکتا ہے۔ ایک جگہ جو ہمیشہ چلتی ہے، وہ براؤزر کا ٹیب ہے۔ Gmail سے سائن اپ کریں۔ Create Repl پر کلک کریں۔ فہرست سے Python چنیں۔ نام پہلا پروگرام جیسا رکھیں۔ فائل main.py ٹمٹماتے کرسر کے ساتھ کھلتی ہے۔ وہی کرسر آپ کی شروعاتی سطر ہے۔

ایک سطر ٹائپ کریں۔ print("السلام علیکم، نانی جان")۔ بس۔ اوپر سبز رن بٹن دبائیں۔ ایک چھوٹے سے وقفے کے بعد، دائیں طرف کے پینل میں، وہی الفاظ نظر آئیں گے۔ سانس لیں۔ جو ہوا، وہ چھوٹی بات نہیں۔ آپ نے ایک انگریزی پروگرامنگ زبان کے اندر اردو الفاظ ٹائپ کیے، تائیوان میں بنی مشین کے اندر، سنگاپور کے سرور پر چل رہی، اور لاہور میں آپ کے سامنے اسکرین نے آپ کی نانی کا نام دکھایا۔ چھ ممالک نے دو سیکنڈ کے لیے تعاون کیا کیونکہ آپ نے کہا۔ پاکستان کے زیادہ تر بڑوں نے یہ کام الٹی طرف ہوتے نہیں دیکھا۔ اس منٹ سے، آپ نے دیکھ لیا۔

اب کمپیوٹر سے صرف کہلوائیں نہیں، پوچھوائیں بھی۔ پہلی سطر کے نیچے یہ لکھیں۔ name = input("آپ کا نام کیا ہے۔ ")۔ اور پھر تیسری سطر۔ print("خوش آمدید، " + name)۔ رن دبائیں۔ دائیں پینل ٹھہرتا ہے، پھر ایک سوال دکھاتا ہے۔ آنے والے خانے میں اپنا نام لکھیں، انٹر دبائیں۔ اسکرین جواب دیتی ہے، خوش آمدید، اور پھر آپ کا اپنا نام۔ کمپیوٹر نے ابھی آپ کی زبان میں، آپ کے بنائے اوزار میں، آپ سے ایک چھوٹی سی گفتگو کی۔ کوڈ کی صرف تین سطریں کافی تھیں۔ یہی، بہت چھوٹے پیمانے پر، ہر چیٹ ایپ، ہر فارم، اور ہر بینکنگ اسکرین کی پوری شکل ہے۔ انسان سے ان پٹ، اندر عمل، واپس آؤٹ پٹ۔

ایک چھوٹا سا مسئلہ تاکہ پٹھا حرکت میں آئے۔ پروگرام کو ایسا بنائیں کہ وہ دو چیزیں پوچھے، صارف کا نام اور شہر۔ پھر چھاپے، خوش آمدید [نام]، [شہر] سے آنے والے۔ اشارہ، ایک دوسری input سطر اور print سطر میں چھوٹی سی تبدیلی چاہیے۔ آگے پڑھنے سے پہلے کوشش کریں۔ دو بار غلط کریں۔ دو بار غلط ہونا ناکامی نہیں، یہ سیکھنے کی عام قیمت ہے۔ جس دن کوئی پروگرامر دو بار غلط ہونا چھوڑ دیتا ہے، اسی دن وہ نیا سیکھنا چھوڑ دیتی ہے۔

ایک آخری بات۔ وہ کمرہ، جس میں آپ نے پہلا پروگرام لکھا، اہم ہے۔ پاکستانی والدین کی نسلیں سیکھنے کو ایک بھاری میز، مغل عہد کے استاد جی، اور خاموشی سے جوڑتی آئی ہیں۔ کوڈنگ ویسا سیکھنا نہیں۔ بہترین پہلا پروگرام چارپائی پر لکھا جاتا ہے، چائے لیپ ٹاپ کے برابر ٹھنڈی ہو رہی ہوتی ہے، اور دادی اسکرین پر جھک کر کہتی ہیں چی چی، یہ کیا لکھا۔ انہیں بلائیں۔ رن کا بٹن دکھائیں۔ ایک بار خود دبوائیں۔ جس دن کوئی پاکستانی دادی اپنا نام اسکرین پر اپنے پوتے یا پوتی کی تین سطروں کی وجہ سے دیکھتی ہیں، اس دن سافٹ ویئر اس گھر میں اجنبی خیال نہیں رہتا۔ ملک کو ایسے بہت سے دن چاہئیں۔

تخمینی وقت: 12 منٹ