The Thinking Toolkit Capstone
یہ کمپیوٹیشنل تھنکنگ کا اختتامی سبق ہے۔ اب تک آپ چار خیالات سے ملے ہیں۔ ڈیکمپوزیشن، یعنی بڑی چیز کو چھوٹی چیزوں میں توڑنا۔ پیٹرن ریکگنیشن، یعنی محسوس کرنا کہ دو مسئلے ایک ہی مسئلے کا بھیس ہیں۔ ایبسٹریکشن، یعنی غیر اہم ت…
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
یہ کمپیوٹیشنل تھنکنگ کا اختتامی سبق ہے۔ اب تک آپ چار خیالات سے ملے ہیں۔ ڈیکمپوزیشن، یعنی بڑی چیز کو چھوٹی چیزوں میں توڑنا۔ پیٹرن ریکگنیشن، یعنی محسوس کرنا کہ دو مسئلے ایک ہی مسئلے کا بھیس ہیں۔ ایبسٹریکشن، یعنی غیر اہم تفصیلات چھوڑ کر شکل واضح کرنا۔ الگورتھم، یعنی قدم اِس طرح لکھنا کہ کوئی بھی، حتیٰ کہ مشین بھی، پیروی کر سکے۔ آج آپ یہ چاروں اپنے گھر کے ایک حقیقی مسئلے پر استعمال کریں گے۔
پہلے مسئلہ چنیں۔ گھر میں نظر دوڑائیں اور ایک ایسا چھوٹا کام ڈھونڈیں جو بہت وقت لیتا ہے، بُرے طریقے سے ہوتا ہے، یا جھگڑے کا باعث بنتا ہے۔ روز صبح پینے کے پانی کی بوتلیں بھرنا اور بانٹنا۔ صاف کپڑے صحیح الماری میں رکھنا۔ دو چارجر سے چار موبائل چارج کرنا تاکہ کوئی صبح خالی فون کے ساتھ نہ اُٹھے۔ صحیح دن صحیح رنگ کے تھیلے میں کچرا باہر رکھنا۔ ایک چنیں۔ نئے صفحے کے اوپر لکھیں۔
ملتان کا الگورتھم یوں تھا۔ رات نو بجے، جو شخص آخر میں ہاتھ دھوتا ہے وہ جگ بھر کر فریج میں رکھے۔ رات دس بجے، امی دوسرے شیلف پر پہلے سے قطار میں رکھی چھ بوتلوں میں ڈالیں جن پر نام لکھے ہوں۔ صبح سات بجے، فریج پہلے کھولنے والا بوتلیں اُن کے ناموں والوں کو پکڑائے۔ تیسری صبح تک جھگڑا ختم ہو گیا۔ غور کریں کہ گھر والوں نے تیز فلٹر نہیں خریدا، بڑا فریج نہیں لیا، نہ کسی پر چلائے۔ اُنہوں نے صرف قدم واضح اور وقت کے ساتھ متعین کر دیے۔ جھگڑا کبھی پانی پر نہیں تھا۔ یہ ایک غیر تحریر شدہ الگورتھم پر تھا جسے ہر کوئی الگ سمجھتا تھا۔
اب اپنی باری۔ اپنا چنا ہوا مسئلہ لیں۔ اِسے ذیلی کاموں میں توڑیں جب تک ہر ذیلی کام ایک فعل نہ بن جائے۔ فہرست دیکھیں، کیا کوئی ذیلی کام آپ کے دیگر مسائل میں بھی دہراتا ہے۔ یہی آپ کا پیٹرن ہے۔ ہر ذیلی کام کے لیے پوچھیں، کم سے کم کون سی معلومات چاہیے، باقی چھوڑ دیں۔ یہی آپ کی ایبسٹریکشن ہے۔ پھر الگورتھم کو ناموں اور اوقات کے ساتھ نمبر والے قدموں میں لکھیں۔ اُسے وہاں چپکائیں جہاں کام کرنے والے دیکھیں۔
ایک ہفتہ الگورتھم چلائیں۔ دیکھیں کہاں ٹوٹتا ہے۔ مہمانوں کی چائے کا ذیلی کام جو آپ بھول گئے۔ جمعہ کا دن جب امی ڈاکٹر کے ہاں ہیں اور آٹھ بجے والے قدم کا کوئی ذمہ دار نہیں۔ ہر ٹوٹ ڈیبگنگ کا موقع ہے، ناکامی نہیں۔ الگورتھم اپڈیٹ کریں۔ دو ہفتوں کی اپڈیٹس کے بعد آپ کا ہاتھ سے لکھا نوٹ اُن چیزوں سے زیادہ اصل انجینئرنگ لگے گا جنہیں لوگ انجینئرنگ کہتے ہیں۔ اور آپ محسوس کریں گے کہ گھر اُن طریقوں سے بھی بہتر چل رہا ہے جن کی آپ نے پیشین گوئی نہیں کی تھی۔
آج کی عادت۔ مسئلہ ابھی چنیں، بعد میں نہیں۔ آج بیس منٹ نکال کر چاروں ٹکڑے لکھیں، ڈیکمپوزیشن، پیٹرن، ایبسٹریکشن، الگورتھم۔ الگورتھم کسی نظر آنے والی جگہ پر چپکائیں۔ اگلے اتوار نوٹس کے ساتھ واپس آئیں کہ کیا چلا، کیا ٹوٹا، آپ نے کیا بدلا۔ ایک بار یہ کریں اور آپ نے ایک گھر بدلا۔ سال میں دس بار کریں اور آپ نے دنیا دیکھنے کا وہ انداز بنا لیا جو کسی بھی ملک میں بہت کم لوگوں کے پاس واقعی ہوتا ہے۔
تخمینی وقت: 14 منٹ