Skip to content
سبق 2

Abstraction The Most Important Bits

ایبسٹریکشن کا مطلب ہے یہ چننا کہ کیا رکھنا ہے اور کیا پھینکنا ہے۔ پھینکنا اس لیے نہیں کہ باقی برا ہے۔ پھینکنا اس لیے کہ باقی ابھی موضوع نہیں۔ لاہور کی تین تصویریں سوچیں۔ پہلی، سیٹلائٹ تصویر۔ ہر چھت، ہر درخت، ہر گاڑی۔ دو…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

ایبسٹریکشن کا مطلب ہے یہ چننا کہ کیا رکھنا ہے اور کیا پھینکنا ہے۔ پھینکنا اس لیے نہیں کہ باقی برا ہے۔ پھینکنا اس لیے کہ باقی ابھی موضوع نہیں۔ لاہور کی تین تصویریں سوچیں۔ پہلی، سیٹلائٹ تصویر۔ ہر چھت، ہر درخت، ہر گاڑی۔ دوسری، گوگل کا اسٹریٹ میپ۔ سڑکیں، محلے، مینار پاکستان اور لبرٹی چوک جیسے بڑے نشان۔ تیسری، ایک کاغذ کے نیپکن پر آپ کی پھپھو کا ہاتھ سے بنایا نقشہ کہ کوریئر کو کیسے بتائیں ان کا گھر کہاں ہے۔ صرف پانچ لکیریں۔ مین روڈ، چائے کے ڈھابے سے مڑیں، دائیں گلی، تیسرا گیٹ، سبز دروازہ۔ ایک ہی شہر کی تین تصویریں۔ ہر ایک درست۔ ہر ایک مختلف چیزیں رکھتی ہے اور مختلف چیزیں پھینک دیتی ہے۔

کون سی تصویر صحیح ہے۔ کوئی ایک صحیح نہیں ہے۔ صحیح اس پر منحصر ہے کہ سوال کیا ہے۔ اگر آپ شہری منصوبہ ساز ہیں اور نیا فلائی اوور کہاں بنانا ہے یہ طے کر رہے ہیں، تو آپ کو سیٹلائٹ تصویر چاہیے۔ اگر آپ سیاح ہیں اور انارکلی بازار ڈھونڈ رہے ہیں، تو آپ کو اسٹریٹ میپ چاہیے۔ اگر آپ کوریئر ہیں اور مٹھائی کا پارسل لیے جا رہے ہیں، تو آپ کو نیپکن چاہیے۔ ہاتھ سے بنا نیپکن لاہور کا ننانوے فیصد پھینک دیتا ہے۔ یہی اس کی ساری خوبی ہے۔ کوریئر کو واہگہ بارڈر کہاں ہے یہ جاننے کی ضرورت نہیں۔ اسے یہ جاننا ہے کہ کس گلی میں مڑنا ہے۔ چیزیں پھینکنا ہی نیپکن کو مفید بناتا ہے۔

عملی مثال۔ وہ بس جو آپ کو اسکول لے جاتی ہے۔ سوچیں ملتان میں ایک دوست پوچھے، آپ اسکول کیسے جاتے ہیں۔ پانچ جواب ہیں، سب درست۔ جواب ایک، سیٹلائٹ ورژن۔ میں سات بیس پر گھر سے نکلتا ہوں، گلبرگ بلاک ایچ کے کونے تک پیدل، سرخ لائن والی اسکول وین جس میں چودہ سیٹیں ہیں اس میں بیٹھتا ہوں، ڈرائیور حامد بھائی چھ اور بچے اس ترتیب میں اٹھاتے ہیں، پھر سات پچپن تک ہمیں مین گیٹ پر چھوڑتے ہیں۔ جواب دو، اسٹریٹ میپ ورژن۔ وین مین بلیوارڈ لیتی ہے، لبرٹی پر بائیں مڑتی ہے، پٹرول پمپ سے گزرتی ہے، اسکول پہنچ جاتی ہے۔ جواب تین، نیپکن ورژن۔ اسکول وین۔ چالیس منٹ۔ جواب چار، اور چھوٹا۔ وین سے۔ جواب پانچ، سب سے چھوٹا۔ سڑک سے۔ ہر جواب وہی سفر ہے۔ ہر ایک کم رکھتا ہے۔ صحیح جواب وہ سب سے چھوٹا ہے جو پھر بھی سوال کا جواب دے۔

یہ کیوں اہم ہے۔ آپ کے فون پر ہر ایپ دنیا کی ایبسٹریکشن ہے۔ ایزی پیسہ پیسہ نہیں، ایک عدد ہے جو پیسے کی نمائندگی کرتا ہے۔ واٹس ایپ آپ کی خالہ نہیں، ایک ہرا ڈبہ ہے جو خالہ سے گفتگو کی نمائندگی کرتا ہے۔ کیا رکھنا اور کیا چھوڑنا ہے، یہ مہارت ہی بکھری ہوئی دنیا کو ایسا بنا دیتی ہے کہ کمپیوٹر اسے سنبھال لے۔ وہ بچہ جو کوریئر کے لیے نیپکن نقشہ بنانا سیکھتا ہے، وہی ترکیب سیکھ رہا ہے جو کراچی کا سافٹ ویئر ڈیزائنر استعمال کرے گا اگلی رائیڈ ہیلنگ ایپ بنانے میں جو پاکستان کی تنگ گلیوں کو سمجھے جہاں گوگل میپس کنفیوز ہو جاتا ہے۔

تخمینی وقت: 12 منٹ