Algorithms The Step By Step
الگورتھم قدموں کی ایک ترتیب وار فہرست ہے جو ابتدائی حالت سے مکمل نتیجے تک لے جاتی ہے۔ اس ٹریک کے پہلے سبق نے یہ خیال نسخے پر قائم کیا تھا۔ اب اسے زیادہ تیز کرتے ہیں۔ اصلی دنیا کے الگورتھم میں ایک نہیں، تین چیزیں ہوتی ہی…
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
الگورتھم قدموں کی ایک ترتیب وار فہرست ہے جو ابتدائی حالت سے مکمل نتیجے تک لے جاتی ہے۔ اس ٹریک کے پہلے سبق نے یہ خیال نسخے پر قائم کیا تھا۔ اب اسے زیادہ تیز کرتے ہیں۔ اصلی دنیا کے الگورتھم میں ایک نہیں، تین چیزیں ہوتی ہیں۔ قدم۔ ترتیب۔ اور اکثر، شاخیں۔ شاخ وہ قدم ہے جو کہتا ہے، اگر یہ ہے تو یہ کریں، ورنہ وہ کریں۔ شاخوں کے بغیر صرف چال ہے۔ شاخوں کے ساتھ سوچنے والی مشین بنتی ہے۔
عملی مثال ایک۔ دو کپ چائے ابالیں۔ سادہ قدم ورژن۔ پتیلا لیں۔ ڈیڑھ کپ پانی ڈالیں۔ آدھا کپ دودھ ڈالیں۔ تین چمچ چینی ڈالیں۔ دو چمچ چائے پتی ڈالیں۔ درمیانی آنچ پر چولہے پر رکھیں۔ چائے کے ابھرنے کا انتظار کریں، پھر آنچ کم کریں۔ ایک منٹ مزید انتظار کریں۔ دو کپ میں چھان لیں۔ ہو گیا۔ یہ ایک چال ہے۔ کوئی شاخ نہیں۔ کوئی فیصلہ نہیں۔ یہ تب کام کرتا ہے جب دنیا ساتھ دے۔
عملی مثال ایک، شاخوں کے ساتھ۔ اصلی چائے، اصلی باورچی خانہ۔ پتیلا لیں۔ اگر دودھ نہیں ہے، تو الگورتھم خاموشی سے ٹوٹنا نہیں چاہیے، اسے آپ کو کریانہ بھیجنا چاہیے۔ تو پہلا قدم بنتا ہے، چیک کریں کہ دودھ ہے یا نہیں۔ اگر ہاں، آگے بڑھیں۔ اگر نہیں، نکڑ کے کریانہ تک جائیں، اولپرز کا پیکٹ خریدیں، واپس آئیں۔ اب پانی اور دودھ ڈالیں۔ اگر گھر میں کسی کو شوگر ہے تو چینی ڈالنے سے پہلے پوچھیں۔ ہاں ہو تو تین چمچ۔ نہیں ہو تو صفر۔ چولہے پر رکھیں۔ اگر چائے پتی چائے کی دکان والی تیز ہے، تو ڈیڑھ چمچ۔ اگر سپر مارکیٹ والی کمزور ہے، تو تین۔ ابھرنے کا انتظار کریں۔ اگر معمول سے تیز ابھرے، آنچ زیادہ ہے۔ کم کریں۔ اگر چار منٹ میں نہ ابھرے، آنچ کم ہے۔ بڑھائیں۔ چھان لیں۔ پیش کریں۔ چائے وہی چائے ہے۔ الگورتھم اب اس باورچی خانے میں بھی زندہ رہتا ہے جہاں چیزیں الٹی ہوتی ہیں۔
عملی مثال دو۔ گلی سے اسکول تک لاہور میٹرو بس۔ قدم ایک، گھر سے سات پانچ پر نکلیں۔ اگر بارش ہو، چھ پچپن پر نکلیں اور چھتری ساتھ لیں۔ قدم دو، میٹرو اسٹیشن تک پیدل۔ اگر لفٹ خراب ہو، سیڑھیاں چڑھیں۔ قدم تین، گیٹ پر میٹرو کارڈ ٹیپ کریں۔ اگر کارڈ خالی ہو، بوتھ پر بھریں، پھر ٹیپ کریں۔ قدم چار، شمال جانے والی بس میں چڑھیں۔ اگر بس بھری ہو، اگلی کا انتظار کریں، دھکا نہ دیں۔ قدم پانچ، تیسرے اسٹاپ پر اتریں۔ قدم چھ، تین منٹ پیدل اسکول۔ قدم سات، سات چالیس تک پہنچیں۔ الگورتھم دیکھیں۔ اس میں چھ شاخیں ہیں۔ ہر شاخ ایک حقیقی ناکامی ہے جو آپ کے دن میں آ سکتی ہے۔ ان شاخوں کے بغیر الگورتھم صرف کامل دن میں چلتا ہے، اور کامل دن کم ہی آتا ہے۔
عملی مثال تین۔ ملتان میں خالہ کو ایزی پیسہ بھیجیں۔ قدم ایک، فون اٹھائیں۔ قدم دو، اسٹار سات آٹھ چھ ہیش ڈائل کریں۔ قدم تین، پیسہ بھیجنے کا آپشن چنیں۔ قدم چار، خالہ کا موبائل نمبر۔ قدم پانچ، رقم لکھیں، مثلاً پانچ ہزار روپے۔ قدم چھ، چار ہندسوں کا ایم پن۔ قدم سات، نظام تصدیق مانگتا ہے۔ اگر سب درست ہے، تصدیق کے لیے ایک دبائیں۔ اگر کچھ غلط ہے، منسوخی کے لیے دو۔ قدم آٹھ، تصدیقی ایس ایم ایس کا انتظار کریں۔ اگر تیس سیکنڈ میں صحیح رقم کے ساتھ ایس ایم ایس آ جائے، الگورتھم مکمل۔ اگر دو منٹ میں ایس ایم ایس نہ آئے، الگورتھم مکمل نہیں ہوا۔ ہیلپ لائن کو فون کریں۔ غور کریں کہ آخری شاخ ہی گھر کا پیسہ بچاتی ہے۔ وہ پروگرام جو کہے، بھیج دو اور مان لو ہو گیا، پیسہ کھو دیتا ہے۔ وہ پروگرام جو کہے، بھیجو اور تصدیق کرو، پاکستانی گھر اس پر بھروسا کر سکتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے۔ پاکستان تیزی سے ایسی دنیا میں جا رہا ہے جہاں ہر چیز کے پیچھے چھوٹے الگورتھم خاموشی سے چل رہے ہیں۔ آپ کی بس۔ آپ کا بھیجا ہوا پیسہ۔ آپ کا اسکول داخلہ فارم۔ ہر ایک کسی نے لکھا ہوا الگورتھم ہے۔ اگر الگورتھم میں شاخیں نہ ہوں تو اصلی خاندان اصلی پیسہ اور اصلی موقع کھوتے ہیں۔ ملک کو ایسے نوجوان چاہئیں جو آنکھیں کھول کر الگورتھم لکھیں، جو غلطیوں کا نام لیتے ہوں کیونکہ وہ ان غلطیوں کے ساتھ جیے ہیں۔ یہ علم پہلے سے آپ کے پاس ہے۔ اسے قدموں میں لکھنا اگلی منزل ہے۔
تخمینی وقت: 14 منٹ