Skip to content
سبق 8

Fact Vs Opinion

کوئی بھی پاکستانی اخبار کھولیں اور آپ کو ایک ہی صفحے پر دو بالکل مختلف قسم کی تحریر ملے گی۔ سامنے کی خبر کہتی ہے: پٹرول کی قیمت میں بارہ روپے فی لیٹر اضافہ ہو گیا۔ اداریے کے صفحے پر رائے کا کالم کہتا ہے: تازہ ترین پٹرول…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

کوئی بھی پاکستانی اخبار کھولیں اور آپ کو ایک ہی صفحے پر دو بالکل مختلف قسم کی تحریر ملے گی۔ سامنے کی خبر کہتی ہے: پٹرول کی قیمت میں بارہ روپے فی لیٹر اضافہ ہو گیا۔ اداریے کے صفحے پر رائے کا کالم کہتا ہے: تازہ ترین پٹرول اضافہ متوسط طبقے کو پیس دے گا۔ پہلی چیز حقیقت ہے۔ دوسری چیز رائے ہے۔ جو قاری دونوں کو خلط ملط کر دے، وہ دنیا کے بارے میں اُلجھ جاتا ہے۔

حقیقت کی تین خصوصیات ہیں۔ اِسے جانچا جا سکتا ہے۔ یہ بتانے والے کے ساتھ نہیں بدلتی۔ یہ آج، کل، اور پرسوں ایک جیسی ہی سچ ہے۔ کسی مخصوص تاریخ پر پٹرول کی قیمت OGRA کے نوٹیفکیشن سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔ جو بھی وہ نوٹیفکیشن دیکھے گا، اُسے وہی نمبر نظر آئے گا۔ یہی اُسے حقیقت بناتا ہے۔

رائے بری چیز نہیں۔ سوچنے والے شہری حقائق کو رائے کے ذریعے ہی سمجھتے ہیں۔ خطرہ تب ہے جب رائے کو حقیقت بنا کر پیش کیا جائے، یا حقیقت کو رائے کا لباس پہنا کر نرم کیا جائے۔ قاری کا کام رائے کو رد کرنا نہیں؛ قاری کا کام جاننا ہے کہ کونسی چیز کیا ہے۔

پاکستانی کالم نگار جیسے ڈان میں خرم حسین یا بی بی سی اردو میں وسعت اللہ خان ایماندار رائے دینے والے ہیں۔ وہ صاف رائے بتاتے ہیں اور حقائق سے اُسے ثابت کرتے ہیں۔ اُن کی تحریر رائے ہے، مگر زمین پر کھڑی رائے۔ اِس کا موازنہ گمنام واٹس ایپ فارورڈ سے کریں جو ایک حقیقت، پانچ آرا، اور ایک کھلے جھوٹ کو ایک ہی آواز میں ملا دیتے ہیں۔

آج کی عادت۔ ایک ہی اخبار سے ایک خبر کا مضمون اور ایک رائے کا کالم چنیں۔ دونوں پڑھیں۔ پھر کاغذ پر دو خانے بنائیں: بائیں طرف حقائق، دائیں طرف آرا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ رائے کالم میں حقائق ہیں اور خبر کے کالم میں رائے۔ یہی حیرت سبق ہے، مسئلہ نہیں۔

تخمینی وقت: 14 منٹ