Skip to content
سبق 7

Inference Reading Between

ماہر مصنف کبھی سب کچھ نہیں بتاتا۔ کہانی کی سب سے اہم باتیں عموماً لائنوں کے درمیان رہتی ہیں، اُن پر نہیں۔ کردار یہ نہیں کہتا کہ میں اُداس ہوں؛ مصنف بتاتا ہے کہ کردار نے چائے ختم نہیں کی۔ قاری ہونے کے ناطے آپ کو چائے اور…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

ماہر مصنف کبھی سب کچھ نہیں بتاتا۔ کہانی کی سب سے اہم باتیں عموماً لائنوں کے درمیان رہتی ہیں، اُن پر نہیں۔ کردار یہ نہیں کہتا کہ میں اُداس ہوں؛ مصنف بتاتا ہے کہ کردار نے چائے ختم نہیں کی۔ قاری ہونے کے ناطے آپ کو چائے اور اُداسی کو خود جوڑنا ہوتا ہے۔ مصنف نے جو الگ چھوڑا، اُسے جوڑنے کا یہ عمل استدلال کہلاتا ہے۔

منٹو نے تقسیم پر ایک سب سے مختصر اور مشہور اردو کہانی لکھی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں، مرکزی کردار بے معنی الفاظ چیختا رہتا ہے۔ مصنف کبھی نہیں کہتا کہ وہ تقسیم کے صدمے سے دماغ کھو بیٹھا ہے۔ وہ صرف چیخ دکھاتا ہے۔ قاری کو استدلال کرنا ہوتا ہے۔ کہانی چھوٹی ہے۔ استدلال بہت بڑا ہے۔

استدلال اندازہ لگانا نہیں۔ اندازہ وہ ہے جب آپ کوئی ایسی بات بنا لیں جس کی متن تائید نہیں کرتا۔ استدلال وہ ہے جب آپ متن میں موجود دو باتیں جوڑتے ہیں، اور جوڑ ہی واحد معقول جوڑ ہوتا ہے۔ ماں نے پلیٹ بغیر آواز دیے رکھ دی۔ اُس کی خاموشی اور روزمرہ کا جوڑ آپ کو بتاتا ہے کہ گھر میں کچھ بدل چکا ہے۔

استدلال تین درجوں پر کام کرتا ہے۔ پہلا درجہ: اگلا واقعہ جو ہوگا۔ دوسرا درجہ: کردار جو محسوس کر رہا ہے مگر کہہ نہیں رہا۔ تیسرا درجہ: مصنف زندگی کے بارے میں جو مانتا ہے اور کہانی میں بغیر اعلان کے رکھ دیتا ہے۔ تیسرا درجہ سب سے گہرا اور سب سے نایاب ہے۔ زیادہ تر سکول کے قاری پہلے درجے پر رہتے ہیں۔

آج کی عادت۔ حال ہی میں پڑھی کوئی مختصر کہانی چنیں، اردو یا انگریزی۔ ایک ایسا لمحہ ڈھونڈیں جہاں مصنف نے کہنے کے بجائے دکھایا۔ لکھیں کیا دکھایا، پھر لکھیں آپ نے کیا استدلال کیا۔ پھر وہی الفاظ لکھیں جو استدلال تک لے گئے۔ تین لائنیں۔ ہفتے میں ایک بار کریں اور ایک سال میں پہلے سے تیسرے درجے تک پہنچ جائیں گے۔

تخمینی وقت: 14 منٹ