Skip to content
سبق 1

Why Mandarin For Pakistan

گوادر کے ساحل پر کھڑے ہو کر مغرب کی طرف دیکھیں۔ جو کرینیں نظر آتی ہیں وہ شنگھائی میں بنیں۔ لاؤڈ سپیکر پر چِلانے والا سپروائزر مینڈرین بول رہا ہے۔ خضدار کی طرف جانے والے ٹرکوں پر بِل آف لیڈنگ دو رسم الخط میں چھپے ہیں۔ آپ…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

گوادر کے ساحل پر کھڑے ہو کر مغرب کی طرف دیکھیں۔ جو کرینیں نظر آتی ہیں وہ شنگھائی میں بنیں۔ لاؤڈ سپیکر پر چِلانے والا سپروائزر مینڈرین بول رہا ہے۔ خضدار کی طرف جانے والے ٹرکوں پر بِل آف لیڈنگ دو رسم الخط میں چھپے ہیں۔ آپ کے دادا کی پوری زندگی میں پاکستان میں موقع کی دوسری زبان انگریزی تھی۔ آپ کی زیادہ تر زندگی میں یہ دو زبانیں ہوں گی۔ انگریزی دروازہ کھولے رکھتی ہے۔ مینڈرین آپ کو کمرے کے اندر لے جاتی ہے۔

سی پیک، یعنی چین پاکستان اقتصادی راہداری، کسی بل بورڈ پر لگا نعرہ نہیں۔ یہ سڑکیں، بندرگاہیں، بجلی گھر، فائبر کیبلز اور معاہدے ہیں۔ معاہدے وہ لوگ لکھتے ہیں جو دوسرے فریق کی شرائط اصل زبان میں پڑھ سکیں۔ آج پاکستان میں سی پیک کے زیادہ تر مترجم چینی ہیں، باہر سے لائے گئے۔ انہیں مقامی مترجم سے دو سے چار گنا زیادہ معاوضہ ملتا ہے، جزوی طور پر اس لیے کہ وہ موجود ہیں اور مقامی نہیں۔ یہ خلا ایک نوکری کی منڈی ہے۔ یہ آپ کی منڈی ہے۔

سوچیں کہ اگلے دس سال میں پاکستان میں مینڈرین کس کو چاہیے۔ گوادر اور کراچی بندرگاہوں پر کسٹمز افسران۔ ساہیوال اور پورٹ قاسم کے بجلی گھروں پر انجینئرز۔ خانیوال میں چینی مزدوروں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر۔ اسلام آباد کے بلیو زون میں ہوٹل منیجرز۔ ہنزہ کے گائیڈ، جہاں چینی سیاح خنجراب پاس عبور کر کے جیپوں میں آتے ہیں۔ ملتان کے زرعی برآمد کنندگان جو گوانگزو کے آم خریداروں سے بات کرتے ہیں۔ لاہور کے وکیل جو مشترکہ سرمایہ کاری کے معاہدے لکھتے ہیں۔ فہرست بڑھ رہی ہے۔ سکڑ نہیں رہی۔

اگلے سبق سے پہلے تین غلط فہمیاں دور کرنی ہیں۔ ایک، مینڈرین ناممکن نہیں؛ گرامر کئی لحاظ سے اردو سے سادہ ہے، اسم میں جنس نہیں، فعل میں شخص کی صرف نہیں۔ دو، کارآمد ہونے کے لیے پانچ ہزار حروف یاد کرنے کی ضرورت نہیں؛ تقریباً آٹھ سو حروف روزمرہ تجارتی گفتگو کے لیے کافی ہیں۔ تین، آپ کو چین میں رہنے کی ضرورت نہیں؛ یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور ایچ ایس کے کی کتابیں مفت یا سستی ہیں، اور آج انٹرنیٹ والے پاکستانی سیکھنے والے کے پاس 1995 کے بیجنگ یونیورسٹی کے طالبعلم سے زیادہ مواد ہے۔

اس مختصر سلسلے کے اختتام پر آپ مہمان کو سلام کر سکیں گے، سو تک گن سکیں گے، بنیادی قیمتیں پوچھ سکیں گے، چند سو حروف پہچان سکیں گے، اور بندرگاہ یا فیکٹری پر چینی انجینئر سے پانچ منٹ کی تجارتی گفتگو کر سکیں گے۔ روانی نہیں۔ نکھار نہیں۔ کارآمد۔ پہلے سال کا مقصد کارآمد ہونا ہے۔ تیسرے سال کا مقصد نکھار ہے۔ اوزار اٹھائیں۔ کام شروع کریں۔

تخمینی وقت: 14 منٹ