Skip to content
سبق 9

Storage And Memory

اگر کمپیوٹر صرف ایک لمحہ یاد رکھ کر چلے تو بے کار ہے۔ یہ دلچسپ کام اس لیے کر پاتا ہے کیونکہ یاد رکھتا ہے۔ آپ نے دو سیکنڈ پہلے کیا ٹائپ کیا، پچھلے مہینے کیا محفوظ کیا، رمضان کے شروع میں بینک کا بیلنس کیا تھا، یہ سب یاد ر…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اگر کمپیوٹر صرف ایک لمحہ یاد رکھ کر چلے تو بے کار ہے۔ یہ دلچسپ کام اس لیے کر پاتا ہے کیونکہ یاد رکھتا ہے۔ آپ نے دو سیکنڈ پہلے کیا ٹائپ کیا، پچھلے مہینے کیا محفوظ کیا، رمضان کے شروع میں بینک کا بیلنس کیا تھا، یہ سب یاد رکھتا ہے۔ ہر پروگرام یاداشت پر اسی طرح ٹِکا ہوتا ہے جیسے کرکٹ کا اسکور بورڈ پہلے بنے رنوں پر۔ موجودہ گیند کا مطلب صرف اوپر کے کالم میں موجود رنوں کی وجہ سے ہے۔ وہ کالم ہٹا دیں تو اگلی گیند بے معنی۔

اپنی امّی کی اس ڈائری سے شروع کریں جو وہ سٹیل کی الماری میں رکھتی ہیں۔ گھر میں جب بھی کوئی رشتہ دار کو پیسے ادھار دیتا ہے، وہ تاریخ، نام، اور رقم لکھ دیتی ہیں۔ جب پیسے واپس آتے ہیں، وہ اندراج پر ایک چھوٹی سی لکیر کھینچ دیتی ہیں۔ ڈائری ایک یاداشت ہے۔ اس کے بغیر چھ مہینے بعد یاد نہ رہتا کہ آصف ماموں نے بیٹی کے جہیز کے لیے لیے ہوئے پندرہ ہزار واپس کیے یا نہیں۔ اچھے لوگ بھی بھول جاتے ہیں۔ ڈائری نہیں بھولتی۔ یہ کام کرتی ہے کیونکہ ایک جگہ، ایک ہی ترتیب میں لکھی گئی ہے، اسی ترتیب میں جس میں چیزیں ہوئیں۔ کمپیوٹر اسٹوریج کا یہی سب سے سادہ ماڈل ہے۔

اب اس کا موازنہ ایک مختلف یاداشت سے کریں، جو حافظِ قرآن کے ذہن میں ہوتی ہے۔ جب کوئی بچہ حفظ مکمل کر لیتا ہے، وہ ایک سو چودہ سورتیں، چھ ہزار دو سو چھتیس آیات، اور تجوید کے اصول ذہن میں رکھتا ہے۔ یہ ایک ہی دن میں یاد نہیں ہوا۔ نظم تہہ بہ تہہ ہے۔ آج وہ ایک نیا سبق سیکھتا ہے۔ کل کل کا سبق اور نیا، دونوں دہراتا ہے۔ ہفتے کا اموختہ ہر جمعرات۔ مہینے کی منزل ہر مہینے۔ پورا قرآن ہر رمضان۔ ہر پرت نیچے کی پرتوں کو بھولنے سے بچاتی ہے۔ کمپیوٹر کا اسٹوریج بھی ایسے ہی چلتا ہے، حالیہ کے لیے cache، آج کے کام کے لیے RAM، اور دور تک کے لیے ڈسک۔ حافظ، بے خبری میں، ملک کا سب سے ترقی یافتہ کیشنگ الگورتھم چلا رہا ہوتا ہے۔

ایک تیسری مثال، گھر کا WhatsApp گروپ۔ تین مہینے پہلے، خالہ نے سب سے اوپر ایک پیغام پن کیا، جس میں سیالکوٹ میں شادی کرنے والے کزن کی تاریخ اور گھر کا پتہ تھا۔ اس کے بعد گروپ میں دو ہزار پیغام آ چکے ہیں، زیادہ تر فارورڈ اور صبح کے گلدستے۔ لیکن پن شدہ پیغام اوپر ہی ہے۔ گروپ میں نیا آنے والا، یا شور سے اوپر اسکرول کرنے والا، اسے تین سیکنڈ میں ڈھونڈ لیتا ہے۔ WhatsApp نے گروپ کو دو اسٹوریج درجے دیے۔ عام پیغامات کا دریا، بہتا ہوا، اگلے ہفتے زیادہ تر بھول گیا۔ اور چھوٹی سی پن شدہ شیلف، جہاں کھونے سے بچانے والی چیزیں جڑ دی جاتی ہیں۔ دنیا کا تقریباً ہر ڈیٹابیس اسی تصور کا ایک زیادہ نفیس نسخہ ہے۔

اسٹوریج کی قیمت ہوتی ہے، ہمیشہ۔ امّی کی ڈائری ایک صفحہ لیتی ہے۔ WhatsApp کا پن شدہ پیغام اسکرین کے اوپر ایک جگہ لیتا ہے۔ پروگرام کی یاداشت چپ میں جگہ لیتی ہے اور بہت بڑھ جائے تو کمپیوٹر سست ہو جاتا ہے۔ اچھے انجینئر کا نظم، اچھی امّی کے گھر چلانے کے نظم جیسا ہے، یہ جاننا کہ کیا محفوظ رکھنا ہے اور کیا چھوڑ دینا ہے۔ کزن کی شادی کی مہندی کا ویڈیو، رکھ لیں۔ عید کی صبح پھپھو کے بھیجے ہوئے سینتالیس فارورڈ، جانے دیں۔ فارورڈ سے بھرا فون کمپیوٹر کی زبان میں وہ cache ہے جسے کبھی صاف نہیں کیا گیا۔ آہستہ ہو جائے گا، پھر نئی تصویریں لینے سے انکار کرے گا، اور آپ سوچیں گے کہ نیا فون پرانا کیوں لگ رہا ہے۔

اختتامی بات۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو یاد رکھتا ہے۔ ہم تقسیم کی تاریخیں، اقبال کے الفاظ، 1992 کے فائنل کا اسکور، اور دادی کے گاؤں سے گھر کا راستہ ساتھ رکھتے ہیں۔ یاداشت یہاں پرایا تصور نہیں۔ پروگرامنگ کی طرف چھلانگ چھوٹی ہے۔ آپ پہلے ہی جانتے ہیں کہ کچھ چیزیں سٹیل کی الماری میں لکھنے قابل ہیں، کچھ گروپ کے اوپر پن کرنے کے لیے، اور کچھ دریا میں بہنے کے لیے۔ کوڈ بس اسی کام کا نام ہے جو نئی چیزوں کے ساتھ، نئے اوزاروں سے، کاغذ سے تیز سطح پر کیا جا رہا ہو۔ کیا رکھنا ہے، یہ چننے کا جوہر آپ کے اندر پہلے سے ہے۔

تخمینی وقت: 13 منٹ