Skip to content
سبق 2

What Is Data

ڈیٹا وہ چیز ہے جو آپ دنیا کے بارے میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ کوئی اسکور۔ کوئی نام۔ کوئی وزن۔ کوئی وقت کا نشان۔ کوئی تصویر۔ اکیلا کوئی نمبر کاپی میں پڑا ہو تو زیادہ کچھ نہیں کہتا۔ نمبر 87 درجہ حرارت ہو سکتا ہے، کرکٹ اسکور، انا…

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔

ڈیٹا وہ چیز ہے جو آپ دنیا کے بارے میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ کوئی اسکور۔ کوئی نام۔ کوئی وزن۔ کوئی وقت کا نشان۔ کوئی تصویر۔ اکیلا کوئی نمبر کاپی میں پڑا ہو تو زیادہ کچھ نہیں کہتا۔ نمبر 87 درجہ حرارت ہو سکتا ہے، کرکٹ اسکور، انار کلی میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت، یا آپ کی خالہ کی عمر۔ اکیلا ڈیٹا کاغذ پر بنے نشان ہی ہیں۔ معلومات اس وقت بنتی ہے جب ڈیٹا کو ایسے سیاق میں رکھا جائے جو بتائے کہ یہ نشان کس بارے میں ہیں۔ ڈیٹا کچا مال ہے۔ معلومات وہ معنی ہیں جو ہم اس میں سے نکالتے ہیں۔

کرکٹ کا اسکور کارڈ لیں، وہی جو پاکستان آسٹریلیا ٹیسٹ میں PTV پر آپ نے دیکھا۔ ہر قطار میں بلے باز کا نام، رنز، گیندیں، چوکے، چھکے، اور کیسے آؤٹ ہوا، یہ سب ہے۔ اس جدول کا ہر خانہ ایک ٹکڑا ڈیٹا ہے۔ بابر اعظم، 81، 124، 9، 1، سلپ میں کیچ۔ ہر قطار میں چھ ٹکڑے، پوری اننگز کی گیارہ قطاریں۔ اسکور کارڈ بذات خود ڈیٹا ہے۔ جس لمحے تبصرہ نگار کہتا ہے، آج بابر کا اسٹرائیک ریٹ تیز گیند بازوں کے خلاف کیریئر اوسط سے کم ہے، تب اسکور کارڈ معلومات بن چکا ہے۔ وہی نمبر۔ نیا سیاق۔ معلومات پہلے بھی ڈیٹا کے اندر چھپی تھی، صرف کسی سوال کا انتظار کر رہی تھی۔

ایک قریب کی مثال۔ آپ Easypaisa یا JazzCash استعمال کرتے ہیں۔ ہر بار جب آپ کزن کو پچاس روپے بھیجتے ہیں، ہر بار جب بجلی کا بل دیتے ہیں، ہر بار جب جاز نمبر پر بیلنس ڈلواتے ہیں، ایک قطار بن جاتی ہے۔ بھیجنے والا نمبر، وصول کنندہ نمبر، رقم، وقت، قسم، حیثیت۔ ہر ٹرانزیکشن کے چھ خانے۔ فیصل آباد کا چھوٹا Easypaisa دکاندار دن میں چار سو ایسی ٹرانزیکشنز کر سکتا ہے۔ دکاندار کو یہ صرف دن بھر کا کام لگتا ہے۔ کراچی میں بیٹھا نظام اسے ڈیٹا کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس ڈیٹا سے کمپنی سیکھتی ہے کہ کون کسے رقم بھیجتا ہے، بل کب ادا ہوتے ہیں، دکانیں کہاں سب سے مصروف ہیں، کن علاقوں کو زیادہ نقد ضرورت ہے۔ آپ کو نہیں لگا کہ آپ انہیں کچھ دے رہے ہیں۔ دے رہے تھے۔ فون پر ہر ٹیپ ایک قطار ہے۔

ڈیٹا کی ایک کیفیت ہوتی ہے۔ اچھا ڈیٹا درست، مکمل، وقت کے نشان والا، اور ہر بار ایک ہی طریقے سے ریکارڈ ہوتا ہے۔ برا ڈیٹا میں خانے گم، ہجے غلط، اکائیاں بے میل، یا وقت ندارد ہوتا ہے۔ کلاس ٹیچر جو حاضری ایسے پنسل سے لکھے جو پھیل جائے، کبھی غیر حاضر کے لیے A لکھے، کبھی صرف لکیر کھینچ دے، کبھی تاریخ بھول جائے، اس کا ڈیٹا برا ہے۔ نمبر تو موجود ہیں مگر ان پر اعتبار نہیں۔ وہ ٹیچر جو ہر صبح ایک ہی وقت پر، ایک ہی خانے میں، ایک ہی حرف سے حاضری لگائے، اس کا ڈیٹا اچھا ہے۔ سال بعد اس کاپی سے حقیقی سوالوں کا جواب نکل سکتا ہے۔ عید کے بعد کس کی حاضری گری۔ ہفتے کے کس دن سب سے زیادہ غیر حاضری ہوتی ہے۔ پہلی ٹیچر نے واقعات لکھے۔ دوسری ٹیچر نے ریکارڈ بنایا۔

اس کا آپ کے لیے کیا مطلب ہے۔ باقی زندگی، آپ پر اور آپ کے ارد گرد ڈیٹا اکٹھا ہوتا رہے گا۔ آپ کا فون، بینک، اسکول، اسپتال، FBR، ایک دن آپ کا آجر۔ آپ یا تو اسے کوئی ایسی چیز سمجھ سکتے ہیں جو آپ کے سر کے اوپر ہو رہی ہے، یا یہ سیکھ سکتے ہیں کہ اس کے دوسرے رخ پر کیسے کھڑا ہونا ہے۔ دوسرا رخ وہ ہے جو فارم بناتا ہے، خانے چنتا ہے، سوال پوچھتا ہے، اور طے کرتا ہے کیا گنا جائے گا۔ پاکستان کو اس رخ پر زیادہ لوگ چاہئیں۔ اگلا سبق ایک قدم مزید بڑھاتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ فون، دفتر، اور فارم میں بکھرے ڈیٹا کے ٹکڑے ایک دوسرے سے نیٹ ورک کے ذریعے کیسے جڑتے ہیں۔

تخمینی وقت: 12 منٹ