Input And Output
ہر مشین جو کوئی کام کرتی ہے، کچھ اندر لیتی ہے، اس پر کوئی عمل کرتی ہے، اور کچھ واپس دیتی ہے۔ پروگرامر پہلے حصے کو ان پٹ اور آخری کو آؤٹ پٹ کہتے ہیں۔ بیچ کا حصہ، جہاں اصل کام ہوتا ہے، وہی الگورتھم ہے جو ہم پہلے دیکھ چکے …
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
ہر مشین جو کوئی کام کرتی ہے، کچھ اندر لیتی ہے، اس پر کوئی عمل کرتی ہے، اور کچھ واپس دیتی ہے۔ پروگرامر پہلے حصے کو ان پٹ اور آخری کو آؤٹ پٹ کہتے ہیں۔ بیچ کا حصہ، جہاں اصل کام ہوتا ہے، وہی الگورتھم ہے جو ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔ ان پٹ، عمل، آؤٹ پٹ۔ تین لفظ۔ آپ نے زندگی میں جو بھی استعمال کیا، چاہے کیلکولیٹر ہو، مائیکروویو ہو، یا فون، سب اسی شکل پر چلتے ہیں۔ ایک بار نظر آ جائے تو پھر ہر جگہ نظر آنے لگتا ہے۔
اپنے نانا کی اس ریڈیو سے شروع کریں جو وہ برآمدے میں چارپائی پر رکھتے ہیں۔ وہ نوب گھماتے ہیں، اسٹیشن بدلتا ہے، اسپیکر سے آوازیں نکلتی ہیں۔ نوب ان پٹ ہے۔ آواز آؤٹ پٹ ہے۔ ریڈیو کے اندر ایک سرکٹ ہی الگورتھم ہے۔ یہ ہوا سے سگنل لیتا ہے، نانا نے جو چاہا وہ چنتا ہے، باقی کو الگ کر دیتا ہے۔ جب پی ٹی وی ہوم سہ پہر چار بجے کہانی نشر کرتا ہے، ان پٹ وہی پرانی ریڈیو لہریں ہیں، لیکن آؤٹ پٹ ایک کہانی ہے۔ مشین وہی، مواد مختلف، شکل وہی۔
ایک دوسری مثال، آپ کی محلے کی سبزی منڈی کی کانڈے والی ترازو۔ آلو والا ایک پلڑے میں آلو رکھتا ہے اور دوسرے میں چھوٹے لوہے کے باٹ۔ وہ باٹ ہلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ دونوں پلڑے برابر ہو جائیں۔ ان پٹ آلوؤں کا ڈھیر ہے۔ آؤٹ پٹ ایک عدد ہے، دو کلو اور تین پاؤ۔ الگورتھم سادہ سی توازن کی فزکس ہے۔ غور کریں کہ ان پٹ ایک حقیقی، گدلی چیز ہے، مٹی لگے آلو۔ آؤٹ پٹ صاف ہے، ایک عدد جو آپ پرچی پر لکھ سکتے ہیں۔ دنیا کا تقریباً ہر پروگرام یہی کام کرتا ہے۔ گدلی دنیا کو لیتا ہے اور گنتی کے قابل کوئی چیز واپس کرتا ہے۔
ایک تیسری مثال کلاس روم سے۔ آپ کے ریاضی کے استاد ایک سوال پوچھتے ہیں۔ بارہ بچے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ استاد ایک کو چنتے ہیں، جواب سنتے ہیں، اور شاباش کہتے ہیں یا ٹھیک کرو۔ یہ سارا تبادلہ ان پٹ اور آؤٹ پٹ ہے۔ استاد کا سوال بیس دماغوں کے لیے ان پٹ ہے۔ ہر دماغ اپنا اپنا الگورتھم چلاتا ہے۔ بارہ دماغ ہاتھ اٹھواتے ہیں، آٹھ دماغ خاموش الجھن دیتے ہیں، ایک دماغ ایسا جواب دیتا ہے جو استاد سنتے ہیں۔ پرتیں دیکھیں۔ پوری کلاس کا ایک ان پٹ ہے اور کئی آؤٹ پٹ۔ ہر بچے کا ایک ان پٹ ہے اور ایک آؤٹ پٹ۔ وہی شکل مختلف سائزوں پر دہرائی جا رہی ہے۔
یہ پروگرامنگ کے لیے کیوں اہم ہے۔ جب آپ پہلا پروگرام لکھنے بیٹھتے ہیں تو پہلا سوال یہ نہیں کہ کیسے لکھیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ یہ کیا اندر لیتا ہے اور کیا واپس دیتا ہے۔ دو عدد جوڑنے والا پروگرام دو عدد لیتا ہے اور ایک عدد واپس کرتا ہے۔ شناختی کارڈ نمبر چیک کرنے والا پروگرام تیرہ ہندسے لیتا ہے اور ہاں یا نہیں واپس کرتا ہے۔ کسی طالبِ علم کو اگلا باب تجویز کرنے والا پروگرام طالبِ علم کے حالیہ کوئز نمبر لیتا ہے اور ایک باب کا نام واپس کرتا ہے۔ اگر آپ ایک مختصر اردو یا انگریزی جملے میں ان پٹ اور آؤٹ پٹ بیان نہ کر سکیں تو ابھی کوڈ کے لیے تیار نہیں۔ مسئلے کے ساتھ بیٹھیں جب تک یہ بات صاف نہ ہو۔
اگلے سبق سے پہلے ایک آخری بات۔ اگلے دس سالوں میں پاکستان کے سب سے کارآمد پروگرام وہ ہوں گے جو ایسے ان پٹ لیں جنہیں دوسرے نظرانداز کرتے ہیں اور انہیں ایسے آؤٹ پٹ میں بدل دیں جن کی دوسروں کو ضرورت ہے۔ کریانہ کی دکان کے کھاتے کے ایک پنے کی تصویر، ان، چیزوں اور قیمتوں کی ٹائپ شدہ فہرست، آؤٹ۔ کسی والد کے سرائیکی میں بارہ وائس نوٹس، ان، ایک تحریری خلاصہ جو اسکول اردو میں پڑھ سکے، آؤٹ۔ شکل ان پٹ، عمل، آؤٹ پٹ پکی ہے۔ اصل کام اور اصل موقع اس فیصلے میں ہے کہ کیا اندر ڈالنا ہے اور کیا واپس مانگنا ہے۔
تخمینی وقت: 12 منٹ