What Is A Network
نیٹ ورک کچھ نقطوں اور ان کے درمیان جوڑوں کا مجموعہ ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ نقطے لوگ، کمپیوٹر، شہر، فون، یا گھر ہو سکتے ہیں۔ جوڑ سڑک، تار، دوستی، رشتہ داری، یا ریڈیو سگنل ہو سکتے ہیں۔ ایک بار اس طرح دیکھنے لگیں تو نیٹ …
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
نیٹ ورک کچھ نقطوں اور ان کے درمیان جوڑوں کا مجموعہ ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ نقطے لوگ، کمپیوٹر، شہر، فون، یا گھر ہو سکتے ہیں۔ جوڑ سڑک، تار، دوستی، رشتہ داری، یا ریڈیو سگنل ہو سکتے ہیں۔ ایک بار اس طرح دیکھنے لگیں تو نیٹ ورک ہر جگہ نظر آنے لگتے ہیں۔ پشاور سے لاہور سے واہگہ تک GT روڈ ایک نیٹ ورک ہے۔ شہر نقطے ہیں۔ سڑک، اس کے ڈھابے، ٹول، اور ویٹ برج، یہ جوڑ ہیں۔ وہ ٹرک ڈرائیور جو جانتا ہے کہ چائے کہاں پئے، تیل کہاں ڈلوائے، اور پولیس چیک کہاں ہوتی ہے، نیٹ ورک استعمال کر رہا ہے۔ نیٹ ورک ایک بار بنا کر چھوڑنے والی چیز نہیں۔ یہ بڑھتا ہے، ٹوٹتا ہے، مرمت ہوتا ہے، اور رکاوٹوں سے بچ کر نیا راستہ بناتا ہے۔
زیادہ تر پاکستانی گھرانوں نے سب سے پہلا کمپیوٹر نیٹ ورک PTCL کی شکل میں چھوا۔ تانبے کا تار محلے کے ایکسچینج سے کھمبے پر لگے جنکشن باکس تک، پھر آپ کے گھر تک، اور وہاں سے سائیڈ ٹیبل پر رکھے بھاری کالے فون تک جاتا تھا۔ کوئٹہ میں پھپھو کو فون کرنے کے لیے، آپ کا فون مقامی ایکسچینج تک، مقامی ایکسچینج کوئٹہ کی ٹرنک لائن تک، ٹرنک لائن ان کے مقامی ایکسچینج تک، اور وہ ایکسچینج ان کے فون تک پہنچتا تھا۔ پانچ چھلانگیں، سب تار سے، اور ہر کیبل کسی انسان نے جوڑی ہوتی۔ نیٹ ورک اس لیے چلتا تھا کہ ہر جوڑ ایمانداری سے بنا ہوتا، اور راستہ صاف ہوتا۔ تار کٹ جاتی تو کال گرتی۔ یہی شکل، صرف زیادہ تیز اور بے تار، آج آپ کی جاز، ٹیلی نار، یا زونگ کال میں چلتی ہے۔
ایک نیٹ ورک جس میں زیادہ تر پاکستانی نام لیے بغیر رہتے ہیں۔ کسی چچا کی شادی میں بیٹھ کر دیکھیں۔ ایک طرف دلہن کی خالہ، دوسری طرف دولہا کی پھپھو، دور کے کزن گروپ میں بیٹھے، اور وہ خاندانی دوست جو ہر تصویر میں ہے کیونکہ ان کے والد دولہا کے چچا کے ساتھ اسی کی دہائی میں لاہور پڑھے تھے۔ اگر ہر اس شخص کے درمیان لکیر کھینچیں جو جانتا ہو کہ ہر دوسرا کیسے رشتے دار ہے، تو ایک ایسا گراف بنے گا جو کئی کمپیوٹر نیٹ ورک سے گھنا ہو۔ یہی رشتہ داری کا گراف طے کرتا ہے کہ کس کے پاس رشتہ آئے گا، کسے نوکری کا حوالہ ملے گا، ہنگامی حالت میں دو لاکھ کون ادھار دے گا، اور کس کے جنازے میں کون جائے گا۔ ملک میں ایسے بیس کروڑ سے زائد رشتے ہیں۔ یہ سب سے پرانا، سست، اور طاقت ور نیٹ ورک ہے جسے زیادہ تر پاکستانی استعمال کرتے ہیں۔
ہر نیٹ ورک کے دو خیالات۔ پہلا، ہر نیٹ ورک میں مرکز ہوتے ہیں۔ مرکز وہ نقطے ہیں جن کے بہت سے جوڑ ہوں۔ رشتہ داری کے گراف میں مرکز عموماً وہ بزرگ خاتون ہوتی ہیں جو سب کو یاد رکھتی ہیں۔ GT روڈ کے نیٹ ورک میں مرکز لاہور ہے۔ انٹرنیٹ میں مرکز کراچی اور اسلام آباد کے ڈیٹا سینٹر اور کراچی پر اترنے والی سمندر کے نیچے کی کیبلز ہیں۔ زیادہ تر ٹریفک چند نقطوں سے گزرتی ہے۔ دوسرا، ہر نیٹ ورک میں ایک نازک جگہ ہوتی ہے۔ مرکز ٹوٹے تو نیٹ ورک کے بڑے حصے کام چھوڑ دیتے ہیں۔ 2010 کے سیلاب میں GT روڈ کٹا تو پنجاب اور KP کے درمیان تجارت ہفتوں سست رہی۔ بحیرہ احمر میں فائبر کیبل ٹوٹی تو پاکستان کا انٹرنیٹ کئی دن سست رہا۔ مرکز اور نازک جگہیں جاننا کسی بھی نیٹ ورک کو سمجھنے کا آدھا کام ہے۔
یہ کیوں اہم ہے۔ آپ کی زندگی کا ہر اہم نظام ایک نیٹ ورک ہے جسے آپ نے ابھی نیٹ ورک کے طور پر نہیں دیکھا۔ آپ کا اسکول استاد، طالبِ علم، اور والدین کا نیٹ ورک ہے۔ آپ کا بینک شاخوں، ATM، اور کراچی کے مرکزی نظام کا نیٹ ورک ہے۔ آپ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا نیٹ ورک ہے جو دوسرے اکاؤنٹس کو فالو کر رہے ہیں۔ کسی بھی نیٹ ورک کو سمجھنے کا پہلا قدم یہی پوچھنا ہے کہ نقطے کیا ہیں، جوڑ کیا ہیں، مرکز کہاں ہیں، اور کہاں ٹوٹے گا۔ ان چار سوالوں کا جواب آنے کے بعد آپ نیٹ ورک کے اندر صرف بیٹھنے کے بجائے انہیں بنانا شروع کر سکتے ہیں۔ اگلا سبق ایک قدم مزید گہرا ہے، کہ ڈیٹا اور نیٹ ورک کے اندر چھپے نمونے کیسے پہچانے اور استعمال کیے جاتے ہیں۔
تخمینی وقت: 12 منٹ