Bringing It Together A Day In Code
ہم نے نو سبق میں خیالات کو الگ الگ سمجھا، الگورتھم، ڈیٹا، نیٹ ورک، نمونہ، نظام، ان پٹ، آؤٹ پٹ، لوپ، برانچ، یاداشت۔ دنیا ان میں سے کسی کو شاذ ہی الگ استعمال کرتی ہے۔ پاکستانی گھر کی ایک حقیقی صبح ان دسوں کو اتنی قدرتی طر…
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
ہم نے نو سبق میں خیالات کو الگ الگ سمجھا، الگورتھم، ڈیٹا، نیٹ ورک، نمونہ، نظام، ان پٹ، آؤٹ پٹ، لوپ، برانچ، یاداشت۔ دنیا ان میں سے کسی کو شاذ ہی الگ استعمال کرتی ہے۔ پاکستانی گھر کی ایک حقیقی صبح ان دسوں کو اتنی قدرتی طرح سے جوڑتی ہے کہ آپ نے غور کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ آخری سبق پہلی اذان سے اسکول کی گھنٹی تک ایک عام صبح لیتا ہے، اور دکھاتا ہے کہ ہر تصور اس کے اندر کہاں چھپا بیٹھا ہے۔ مقصد آپ کو کوئی نئی بات سکھانا نہیں۔ مقصد ان چیزوں کو نام دینا ہے جو آپ پہلے ہی کرتے ہیں، تاکہ جس دن آپ کی بورڈ پر بیٹھیں، کی بورڈ اجنبی نہ لگے۔
صبح ساڑھے پانچ بجے۔ مقامی مسجد کا پہلا مؤذن فجر کی اذان شروع کرتا ہے۔ محلے بھر میں تین اور مسجدیں اگلے تین منٹ میں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک نیٹ ورک ہے۔ ہر مسجد ایک نوڈ ہے۔ سگنل آواز ہے۔ پروٹوکول یہ ہے کہ سب سے قریبی پہلے شروع کرے، باقی ذرا تاخیر سے تاکہ الفاظ ٹکرائیں نہیں۔ یہ سب کہیں لکھا ہوا نہیں۔ کام اس لیے کرتا ہے کہ نیٹ ورک کا ہر فرد اپنی جگہ جانتا ہے۔ AWS پر تقسیم شدہ سسٹم ڈیزائن کرنے والا پروگرامر مؤذن چچا کے ساتھ ایک ہفتہ بیٹھ کر بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔
صبح سوا چھ، باورچی خانہ۔ امّی چائے بنا رہی ہیں۔ نسخہ ایک الگورتھم ہے جسے وہ نو ہزار بار چلا چکی ہیں۔ دو کپ پانی، ایک کپ دودھ، تین چمچ چینی، دو ٹی بیگ، چھ منٹ۔ اندر ایک لوپ ہے، چمچ پتیلی میں آہستہ گول گول گھومتا ہے جب تک رنگ ٹھیک نہ ہو۔ اندر ایک برانچ ہے، اگر ابو روزے سے ہیں تو چائے نہیں، صرف پانی اور کھجور۔ ان پٹ ہیں اجزا، اور آؤٹ پٹ خود چائے، چار کپ میں ڈلی، پانچواں اگر خالہ بے خبری میں آ جائیں۔ پہلے نو سبقوں کا ہر تصور اس ایک پتیلی میں ہے۔ معجزہ یہ ہے کہ کوئی اسے پروگرامنگ نہیں کہتا۔ سب اسے بنائی ہوئی چائے کہتے ہیں۔
سات بجے، گلی کے کونے پر اسکول کی ون ہارن دیتی ہے۔ آپ اور تین اور بچوں کو اگلے نوّے سیکنڈ میں تیار ہونا ہے۔ گھر کے اندر ایک ہنگامی لوپ چلتا ہے۔ والدہ ہر بچے کا نام پکارتی ہیں۔ ہر بچہ اپنا ذاتی روٹین چلاتا ہے۔ جوتے پہنو، پانی کی بوتل اٹھاؤ، والد کو سلام کرو، سیڑھی سے نیچے چھلانگ مارو۔ نمونہ سب کے لیے ایک جیسا ہے، لیکن ہر بچہ اسے ذرا مختلف بھرتا ہے۔ بہن جلدی میں جیومیٹری باکس بھول جاتی ہے، آپ نیند میں ٹفن، اور سب سے چھوٹی ہر منگل کو ربن۔ والدہ کے الگورتھم نے سال بھر میں ان سب برانچوں کو سیکھ لیا ہے۔ ان کی ہدایات بچے کے حساب سے ہیں۔ بڑے بھائی کو، ٹفن لے لو۔ چھوٹی کو، بال باندھ لیے۔ ایک ہی لوپ کا جسم، بچے کے حساب سے ترتیب۔
ساڑھے سات بجے، خود ون۔ اندر چار گھروں کے چودہ بچے ایک تنگ بنچ پر بیٹھے ہیں۔ ڈرائیور، یوسف بھائی، روز ایک ہی روٹ چلاتے ہیں۔ گارڈن ٹاؤن سے ڈیفنس کے اسکول تک، دس اسٹاپ۔ انہوں نے ترتیب، گھر، اور وقت پر فیس دینے والے اور دیر سے دینے والے والدین، سب یاد رکھے ہیں۔ روٹ ان کے ذہن میں محفوظ ڈیٹا ہے۔ ترتیب الگورتھم ہے۔ ہر اسٹاپ پر اترنے والے بچوں کے نام ایک فہرست ہیں، کمپیوٹر کی زبان میں ایک واضح اشاریے کے ساتھ، پہلا اسٹاپ، دوسرا اسٹاپ، اور آگے۔ اگر کوئی بچہ بیمار ہو، تو والدین یوسف بھائی کے موبائل پر فون کرتے ہیں۔ فہرست بدل جاتی ہے۔ وہ اسٹاپ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کوڈ میں ایک array اور conditional skip ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یوسف بھائی کا runtime ایک 1995 کی ٹویوٹا ہائی ایس ہے۔
آٹھ بج کر دس منٹ، اسکول کی اسمبلی۔ گراؤنڈ پر سیدھی قطاروں میں چھ سو بچے۔ پرنسپل بولتے ہیں، ہیڈ گرل قرآن سے تلاوت پڑھتی ہے، قومی ترانہ بجتا ہے، اور جماعتیں ترتیب سے مارچ کر کے جاتی ہیں۔ یہ آپ کی صبح کا سب سے بڑا نظام ہے، اور اس میں سب سے زیادہ نمونے۔ حروفِ تہجی کی ترتیب میں جماعت کی فہرست، ڈیٹا۔ صبح کا پروٹوکول، الگورتھم۔ لوپ، ہر سیکشن باری باری اسٹیج کے سامنے سے گزرتا ہے۔ برانچ، بیمار بچے کو جماعت کی بجائے ڈسپنسری بھیج دیا جاتا ہے۔ یہاں خرابی کو سہنے کی صلاحیت بھی ہے۔ ہیڈ گرل غیر حاضر ہو تو پریفکٹ فہرست کی دوسری لڑکی پڑھتی ہے۔ اسپیکر خراب ہوں تو موسیقی کے استاد تالی بجاتے ہیں۔ اسکول نے یہ اتنی بار مشق کی ہے کہ ایک خرابی پورا دن نہیں روکتی۔ دنیا کی بڑی کلاؤڈ کمپنیاں لاکھوں ڈالر خرچ کرتی ہیں اس بات کی نقل کرنے میں جو آپ کا اسکول ہر صبح آٹھ بج کر دس منٹ پر مفت کر لیتا ہے۔
ان دس سبقوں کے بعد آپ جو ایک جملہ ساتھ لے جائیں وہ یہ ہو۔ کمپیوٹر سائنس پاکستان میں باہر سے نہیں آئی۔ یہ ہمیشہ یہاں تھی، مختلف لباس پہنے، مختلف ناموں سے پکاری گئی۔ چائے کی پتیلی، مسجدوں کا نیٹ ورک، اسکول ون کا روٹ، اسمبلی کی قطار، کرکٹ کا بیٹنگ آرڈر۔ ہم اس ملک میں ایک ہزار سال سے الگورتھم چلا رہے ہیں۔ کی بورڈ صرف ایک نیا ساز ہے۔ موسیقی وہی ہے جو ہمیں پہلے سے بجانی آتی ہے۔ اگلا سلسلہ آپ کو کی بورڈ سکھائے گا۔ اس کے اختتام پر آپ ایسا کوڈ لکھ رہے ہوں گے جو پھپھو کے کاپی پنسل سے نہیں ہو پاتا، لیکن دنیا کو دیکھنے کا جوہر آپ پہلے دن سے ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔
تخمینی وقت: 14 منٹ