What Is A Pattern
نمونہ وہ چیز ہے جو دہرائی جاتی ہو۔ دہرائی جگہ میں ہو سکتی ہے، جیسے چادر پر بنی شکلیں۔ وقت میں ہو سکتی ہے، جیسے دن میں پانچ وقت کی اذان۔ اعداد میں ہو سکتی ہے، جیسے سات کے ضرب۔ زبان میں ہو سکتی ہے، جیسے غزل کے ہر شعر کے آ…
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
اس کو سمجھنے کا ایک سے زیادہ طریقہ ہے۔ اگر آپ کو صرف ایک طریقہ سکھایا گیا ہے تو آپ کو حق سے کم سکھایا گیا ہے۔
نمونہ وہ چیز ہے جو دہرائی جاتی ہو۔ دہرائی جگہ میں ہو سکتی ہے، جیسے چادر پر بنی شکلیں۔ وقت میں ہو سکتی ہے، جیسے دن میں پانچ وقت کی اذان۔ اعداد میں ہو سکتی ہے، جیسے سات کے ضرب۔ زبان میں ہو سکتی ہے، جیسے غزل کے ہر شعر کے آخر میں آنے والا قافیہ۔ دماغ بناوٹ ہی سے نمونہ پہچاننے والا ہے۔ کسی نے ریاضی پڑھانے سے بہت پہلے آپ نے دیکھ لیا تھا کہ رات کے بعد دن آتا ہے، کھانے کے لمبے وقفے کے بعد بھوک لگتی ہے، اور جمعرات جمعہ کو بڑے زیادہ خوش رہتے ہیں۔ آپ بغیر نام جانے نمونہ پہچان رہے تھے۔ نمونوں کو باقاعدہ پڑھنا اسی اوزار کو دھار لگانا ہے جو آپ کے پاس پہلے سے تھا۔
قدرت کے نمونے، شاہراہ فیصل پر ہر Bedford ٹرک کی پشت پر بنے ہوئے۔ ٹرک آرٹ کو غور سے دیکھیں اور آپ کو نمونوں میں نمونے نظر آئیں گے۔ بمپر پر کنارے والی پٹی ایک ہی پھول والے نقش کو بیس بار دہراتی ہے۔ بیچ میں مور خود مڑی ہوئی تکونوں کی ٹائلنگ ہے، اور ہر تکون پورے مور کی موڑ کی چھوٹی نقل ہے۔ ریاضی دان اسے خود مماثلت کہتے ہیں۔ کراچی یا راولپنڈی میں ٹرک رنگنے والا فنکار فریکٹل پر کوئی مقالہ نہیں پڑھتا، لیکن وہ جیومیٹری کے گہرے ترین خیالات میں سے ایک کو اپنے اندر جذب کر چکا ہے کہ خوبصورتی اکثر ایک ہی شکل کے مختلف پیمانوں پر دہرانے سے آتی ہے۔ یہی خیال بھٹ شاہ کی اجرک، ملتانی نیلی ٹائل کی جیومیٹری، اور وزیر خان مسجد کی کھڑکیوں کی جالی کے اندر موجود ہے۔
زبان میں نمونے۔ میر، غالب، یا فیض کا دیوان کھولیں۔ غور کریں کہ ہر شعر اسی قافیے پر ختم ہوتا ہے، جسے ردیف کہتے ہیں، اور ہر شعر کا دوسرا مصرع اسی لفظ پر ختم ہوتا ہے جسے قافیہ کہتے ہیں۔ یہ پابندی اتنی سخت ہے کہ شاعر جیسے ہی اسے توڑتا ہے، سننے والا چونک پڑتا ہے۔ بحر ہر مصرع کو ایک ہی تال میں ایک جیسے ارکان دیتی ہے۔ تربیت یافتہ کان ایک غلط رکن یوں سنتا ہے جیسے گانے میں غلط سر۔ اردو شاعری سینکڑوں برس پرانا نمونوں کا نظام ہے۔ غزل یاد کرتے وقت آپ بکھرے الفاظ یاد نہیں کر رہے، آپ ایسا ڈھانچہ یاد کر رہے ہیں جو ان الفاظ کو جگہ پر تھامے رکھتا ہے۔ یہی پنجابی ٹپوں، پشتو لنڈیوں، اور سندھی دوہوں کا حال ہے۔
اعداد میں نمونے۔ سب سے مشہور مثال، جو پائن کون، سورج مکھی، اور کراچی کے سیپوں کی پیچیں میں ملتی ہے، فیبوناچی سلسلہ ہے۔ 1، 1 سے شروع کریں۔ آخری دو کا جوڑ اگلا نکالتا ہے۔ 1، 1، 2، 3، 5، 8، 13، 21، 34، 55۔ اصول اس سلسلے سے چھوٹا ہے جو وہ بناتا ہے۔ گھر کی تین پاکستانی مثالیں۔ گلاب کی پنکھڑیاں اکثر فیبوناچی نمبر ہوتی ہیں۔ پنجابی شادی میں ڈھولک کی تال جس طرح دگنی، آدھی، اور دوبارہ ملتی ہے، اسی طرح کی ریاضی کی ساخت پر چلتی ہے۔ میلاد کی فہرست میں جس طرح ہر نئے خاندان کے ساتھ دو مزید جڑتے ہیں، وہی بڑھاؤ کا نمونہ ہے جو HBL کے کمپاؤنڈ سود کے پیچھے کام کرتا ہے۔ ایک چھوٹا اصول، بار بار لگانے سے ایسا کچھ نکلتا ہے جو پیچیدہ لگتا ہے لیکن ہے نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے۔ ہر مشین لرننگ نظام، ہر سرچ انجن، ہر سفارشی فہرست، HBL یا Easypaisa کا ہر فراڈ پکڑنے والا، اپنی جڑ میں نمونہ پہچاننے والا ہے۔ اس کا کام پرانے مثالوں کا ڈھیر لے کر اصول نکالنا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ نمونہ پکڑنے والا ان نمونوں کو بھی اٹھا لیتا ہے جو محض ڈیٹا کے حادثات ہوں۔ اگر کوئی ماڈل CV کی تصویروں سے سیکھ لے کہ مردوں کو زیادہ نوکریاں ملتی ہیں، تو اس نے ایک موجود نمونہ سیکھا، لیکن ساتھ ہی اس نے ایک قومی ناانصافی آگے دہرانا بھی سیکھ لیا۔ نمونوں سے کام کرنے کے لیے دو ہنر چاہئیں۔ پہلا، انہیں ڈھونڈنا۔ دوسرا، یہ پوچھنا کہ کیا یہ نمونہ دنیا کا حقیقی اصول ہے یا اس ڈیٹا کے بنانے والوں کی عادت۔ اگلا سبق اگلا قدم اٹھاتا ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ الگ الگ نمونے مل کر نظام کیسے بنتے ہیں۔
تخمینی وقت: 12 منٹ