Skip to content

AI کی حکمرانی، صرف ضابطہ سازی نہیں

Why AI governance, not AI regulation

35 منٹ

تین طریقے

  1. AI گورننس وہ اندرونی نظام ہے جس کے ذریعے کوئی ادارہ طے کرتا ہے کہ کون سا AI بنایا، خریدا، نصب اور ختم کیا جائے، اور خرابی پر ذمہ داری کون اٹھائے۔ ضابطہ ریاست سے آتا ہے، گورننس ادارے کے اندر سے۔ دونوں جڑے ہیں مگر ایک نہیں۔ SBP کل کوئی سرکلر جاری کر سکتا ہے، وہ ضابطہ ہے۔ HBL کی اندرونی ماڈل رسک کمیٹی جو ہر جمعرات کو فیصلہ کرتی ہے کہ نیا فراڈ ماڈل لائیو جائے یا نہیں، وہ گورننس ہے۔ پاکستان میں 2026 میں پہلی چیز بہت کم ہے اور دوسری تقریباً ہے ہی نہیں۔

  2. گورننس کو سمجھنے کا پہلا طریقہ: اسے پلمبنگ سمجھیں۔ آپ کے ادارے کا ہر AI فیصلہ پائپوں سے گزرتا ہے۔ کس نے استعمال کا مشورہ دیا، کس نے بجٹ منظور کیا، کس نے ڈیٹا کی اجازت دی، کس نے ماڈل کی توثیق کی، کس نے نگرانی کا ڈیش بورڈ چلایا، اور کون پلگ کھینچ سکتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی پائپ نہیں ہے تو نظام ٹپکے گا۔ پاکستان کے زیادہ تر وفاقی اور صوبائی اداروں میں یہ پائپ ابھی موجود نہیں؛ AI ایک وینڈر کنٹریکٹ کی شکل میں آتا ہے اور آپریشنز میں غائب ہو جاتا ہے۔

  3. دوسرا طریقہ: ایک کھیل جس میں ریفری ہوں۔ AI بنانے والی ٹیم ایک ہے، استعمال کرنے والی دوسری، اور متاثرہ شہری یا گاہک تیسری۔ بغیر ریفری کے سب سے طاقتور ٹیم جیتتی ہے۔ گورننس ریفری کا کام ہے: اندرونی AI اخلاقیات بورڈ، ماڈل رسک کمیٹی، پرائیویسی آفس، اندرونی آڈٹ ٹیم جسے AI سمجھ ہو۔ یہ نوکریوں کی فہرست ہے، فلسفہ نہیں۔ NADRA کا سکیورٹی آفس ہے، AI آفس ابھی نہیں۔ یہی خلا اصل خلا ہے۔

فوری چیک

فوری چیک: جدید AI روایتی قاعدہ بنیاد پروگرام سے کس طرح مختلف ہے؟

کیوں؟

کیوں کا پہلا درجہ: AI کو گورننس کی ضرورت کیوں ہے؟ کیونکہ AI فیصلے ان لوگوں سے جنہیں ہم جانتے ہیں اُن نظاموں کی طرف منتقل کرتا ہے جنہیں ہم نہیں جانتے۔ جب فیصلے کا کوئی مصنف نہیں رہتا، جوابدہی غائب ہو جاتی ہے، الا یہ کہ کوئی جان بوجھ کر اسے واپس لائے۔ گورننس وہی شعوری عمل ہے۔

Claude کے ساتھ آزمائیں

آزمانے کے لیے پرامپٹ: 'UNESCO Ethics of AI کے جائزہ کار کے طور پر، جس AI نظام کی میں وضاحت کر رہا ہوں (ایک پیراگراف چسپاں کریں) اس کے لیے پانچ بڑے گورننس خلا بتائیں جو 2027 کے آڈٹ سے پہلے بند کرنے ہوں گے۔ ہر خلا کے ساتھ متعلقہ UNESCO اصول کا حوالہ دیں۔' اس کے جواب کا اپنی دستی فہرست سے موازنہ کریں۔

ماخذ

ماخذ اور مزید مطالعہ۔ UNESCO، Recommendation on the Ethics of Artificial Intelligence (2021)۔ World Economic Forum، AI Governance Alliance۔ OECD، AI Principles۔ NIST، AI Risk Management Framework 1.0۔ حکومتِ پاکستان، مسودہ قومی AI پالیسی 2025 (MoITT)۔ Anthropic، Responsible Scaling Policy۔

مکمل، اگلا سبق ←